ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو جان سے مارنے کی دھمکی، ملزم کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اسلام آباد ( ملک نجیب ) تھانہ شالیمار پولیس نے ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی متاثرہ خاتون سامیعہ حجاب کی درخواست پر عمل میں لائی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق ملزم حسن زاہد کئی روز سے خاتون کا تعاقب کرتا رہا اور بار بار تحائف دے کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ 31 اگست کو شام ساڑھے 6 بجے، ملزم نے گھر کے باہر زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش بھی کی۔ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے کھلے عام بدلہ لینے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ متاثرہ خاتون نے اپنے ویڈیو بیان میں اپنی جان کو سنگین خطرے سے دوچار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلسل خوف اور دباؤ کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو بیان بھی پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور حقائق سامنے لانے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔