سڈنی: آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے امیگریشن کے خلاف ریلیوں میں شرکت کی، جنہیں حکومت نے سختی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ریلیاں ملک میں نفرت اور تقسیم پھیلانے کی کوشش ہیں اور ان کا تعلق انتہا پسند گروپوں اور نیو نازی عناصر سے ہے۔

’مارچ فار آسٹریلیا‘ کے نام سے نکالی جانے والی یہ ریلیاں سڈنی، میلبورن سمیت دیگر بڑے شہروں میں منعقد ہوئیں، جہاں مظاہرین نے حکومت پر بڑے پیمانے پر امیگریشن روکنے کا دباؤ ڈالا۔ ریلی کے منتظمین نے کہا کہ "زیادہ امیگریشن نے ہماری کمیونٹیز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔"

سرکاری وزراء نے ان ریلیوں کو "انتہائی خطرناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف آسٹریلوی معاشرے کو تقسیم کرتی ہیں بلکہ ان کے پیچھے دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ کارفرما ہیں۔ 

وزیر موری واٹ نے کہا: "یہ ریلیاں ہم آہنگی بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ نفرت پھیلانے کے لیے کی جا رہی ہیں، اور ان کے پیچھے نیو نازی گروپس ہیں۔"

سڈنی میں ریلی میں 5 سے 8 ہزار افراد شریک ہوئے، جب کہ قریب ہی پناہ گزینوں کے حق میں ایک کاؤنٹر ریلی بھی نکالی گئی جس کے شرکاء نے امیگریشن مخالف احتجاج پر ’غصے اور نفرت‘ کا اظہار کیا۔

میلبورن میں بھی بڑے پیمانے پر ریلی نکالی گئی جس میں پولیس کو حالات قابو میں رکھنے کے لیے پیپر اسپرے استعمال کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا میں اس سال ایسے قوانین نافذ کیے گئے ہیں جن کے تحت دہشت گردی سے منسلک علامات یا نشانات دکھانے پر پابندی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش