سندھ ہائیکورٹ نے این ای ڈی لیکچرار کی تنزلی و تبادلے کے خلاف تادیبی کارروائی روک دی
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے این ای ڈی یونیورسٹی کے لیکچرار کی عہدے سے تنزلی و تبادلے کیخلاف درخواست پر تادیبی کارروائی سے روک دیا۔
ہائیکورٹ میں این ای ڈی یونیورسٹی کے لیکچرار کی عہدے سے تنزلی و تبادلے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ درخواستگزار واثق علی خان کو نامعلوم شکایات پر معطل کرکے عہدے سے تنزلی کی گئی۔
درخواستگزار کو گریڈ 18 کے لیکچرار سے گریڈ 17 کا اسسٹنٹ رجسٹرار بنادیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے درخواستگزار کی رسائی بھی محدود کردی ہے۔
شعبہ میٹریل انجینیئرنگ کے چیئرمین نے بدنیتی کی بنیاد پر درخواست گزار کیخلاف نامعلوم شکایت پر کارروائی کی۔ درخواستگزار پی ایچ ڈی اسکالر ہے، رسائی روکنا غیر قانونی ہے، درخواستگزار کیخلاف اقدامات غیر قانونی اور انصاف کے تقاضوں کیخلاف ہیں۔
عدالت نے این ای ڈی یونیورسٹی کو درخواستگزار کیخلاف تادیبی کارروائی سے روکتے ہوئے فریقین سے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔