خیبرپختونخوا اسمبلی نے افغانستان میں حالیہ تباہ کن زلزلے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے۔ قرارداد میں حکومت اور اپوزیشن، دونوں نے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کے دوران قرارداد میں کہا گیا کہ افغان بھائیوں کی مدد کو ہم اپنی اسلامی اور انسانی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعا گو ہیں، اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔
بغیر ویزا شدید زخمیوں کو پاکستان منتقل کرنے کی تجویز
قرارداد میں خاص طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ جو متاثرین شدید زخمی ہیں، انہیں بغیر ویزا فوری طور پر پاکستان منتقل کیا جائے تاکہ انہیں فوری اور بہتر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
یہ اقدام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تجویز کیا گیا ہے، تاکہ وقت ضائع کیے بغیر قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے،وفاق اور صوبہ امدادی کارروائیوں میں شریک ہوں ۔
مزید کہا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر امدادی ٹیمیں،طبی سامان اور ریسکیو اہلکار جلد از جلد افغانستان روانہ کرے تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی فوری مدد کی جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ شب افغانستان کے صوبہ کنڑ میں 6 شدت کا زلزلہ آیا، جس نے سینکڑوں جانیں لے لیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق  800 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن