WE News:
2026-07-24@10:23:59 GMT

کیا نمک کم کھانا بھی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

کیا نمک کم کھانا بھی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے؟

سالہا سال سے ڈاکٹروں اور ماہرینِ صحت کی جانب سے یہ مشورہ دیا جاتا رہا ہے کہ زیادہ نمک کھانا انسانی صحت خصوصاً دل اور بلڈ پریشر کے لیے خطرناک ہے۔ لیکن حالیہ سائنسی تحقیقات میں ایک نیا نقطۂ نظر سامنے آیا ہے کہ انتہائی کم نمک کھانا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے نمک کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے، نہ بہت زیادہ اور نہ بہت کم۔

زیادہ نمک: بلڈ پریشر، فالج اور امراض قلب کا خطرہ

عالمی ادارہ صحت کے مطابق زیادہ نمک کھانے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے جو دنیا بھر میں فالج اور دل کے امراض کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

کتنا نمک کھانا چاہیے؟

ایک تخمینے کے مطابق سالانہ تقریباً 18 لاکھ 90 ہزار اموات زیادہ نمک کے استعمال سے جڑی ہوتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او روزانہ زیادہ سے زیادہ 5 گرام نمک (تقریباً ایک چائے کا چمچ) کی سفارش کرتا ہے لیکن دنیا بھر میں اوسط کھپت 10 گرام سے تجاوز کر چکی ہے۔ برطانیہ میں یہ مقدار 8.

4 گرام جبکہ امریکا میں 8.5 گرام ہے۔

لیکن کیا بہت کم نمک کھانا بھی خطرناک ہے؟

حالیہ مطالعات نے یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ انتہائی کم نمک استعمال کرنے والوں میں بھی دل کی بیماریاں اور فالج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 5.6 گرام سے کم یا 12.5 گرام سے زیادہ نمک کھانے والے افراد میں دل کے مسائل اور اموات کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ روزانہ 7.5 سے 12.5 گرام تک نمک کا استعمال ایک محفوظ حد قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے متضاد خیالات

کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی میں نیوٹریشنل ایپیڈیمولوجی کے ماہر پروفیسر اینڈریو مینٹے کا کہنا ہے کہ نمک کی زیادتی سے بچنا ضروری ہے لیکن نمک کی بہت کم مقدار بھی فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا0 اعتدال ہی بہتر راستہ ہے۔

تاہم کچھ ماہرین جیسے کہ پروفیسر فرانچیسکو کاپوچیو ان نتائج پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کم نمک والی غذا سے بلڈ پریشر ہر صورت میں کم ہوتا ہے اور زیادہ تر حالیہ مطالعات میں ناقص ڈیٹا یا پہلے سے بیمار افراد شامل کیے گئے ہیں جس سے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

ہر فرد پر اثر مختلف: ایک ہی نسخہ سب کے لیے نہیں؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہر شخص کی نمک کے لیے حساسیت مختلف ہوتی ہے۔ عمر، جسمانی وزن، نسل، طرز زندگی اور خاندانی تاریخ جیسے عوامل یہ طے کرتے ہیں کہ نمک آپ کے بلڈ پریشر کو کس حد تک متاثر کرے گا۔

نمک کہاں چھپا ہوتا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر افراد صرف وہی نمک گنتے ہیں جو ہم خود کھانے میں ڈالتے ہیں حالانکہ روزمرہ غذا میں تقریباً 75 فیصد نمک پراسیسڈ فوڈز میں چھپا ہوتا ہے جیسے کہ روٹی، چٹنی، نمکو، سوپ اور فاسٹ فوڈ۔

غذا کے لیبلز پر اکثر ’سوڈیم‘ لکھا ہوتا ہے جو براہِ راست نمک نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے عام صارفین کو درست معلومات حاصل نہیں ہو پاتیں۔

حل کیا ہے؟

برطانوی نیوٹریشن فاؤنڈیشن کی سائنسی ڈائریکٹر سارا اسٹینر کا کہنا ہے کہ سب سے مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ پوری فوڈ انڈسٹری میں نمک کی مقدار کو کم کیا جائے کیونکہ بہت سے لوگ اپنی مرضی سے نمک گھٹانے پر توجہ نہیں دیتے۔

کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل، سبزیاں اور پوٹاشیئم سے بھرپور غذا نمک کے منفی اثرات کو کچھ حد تک متوازن کر سکتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ نمک چھوڑیں نہیں لیکن سمجھ کر کھائیں۔ سائنسی اتفاق رائے یہی ہے کہ زیادہ نمک یقینی طور پر نقصان دہ ہے لیکن انتہائی کم نمک بھی خطرے سے خالی نہیں۔ لہٰذا نمک کا استعمال اعتدال میں رہ کر کری، پراسیسڈ اور پیکڈ کھانوں سے گریز کریں، خوراک کے لیبلز کو غور سے پڑھیں اور متوازن غذا اور طرز زندگی اپنائیں۔

الغرض نئی تحقیق کو بھی ایک حد تک سندیدہ لینا چاہیے اور سچ جاننے کی کوشش ضرور کرتی رہنی چاہیے لیکن نمک کا استعمال ہمیشہ ’ایک چٹکی سمجھداری کے ساتھ‘ کیا جائے تو بہتر ہے۔ مزید برآں وی نیوز نے یہ خبر آپ کی معلومات کے لیے شائع کی ہے اور اس کو طبی لحاظ سے کوئی حتمی لائحہ عمل نہ سمجھتے ہوئے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ہی بہتر طریقہ ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نمک نمک زیادہ کھانے کے نقصان نمک کتنا کھایا جائے نمک کم کھانے کے نقصان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نمک زیادہ کھانے کے نقصان نمک کتنا کھایا جائے نمک کم کھانے کے نقصان کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر نمک کھانا زیادہ نمک کے مطابق ہوتا ہے کے لیے نمک کے

پڑھیں:

فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا

جنوب مغربی فرانس میں جنگلاتی آگ کے پھیلنے کے باعث 43,000 سے زائد رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آرکاچون بے اور جزیرہ نما کیپ فیرٹ کے قریب سب سے بڑی آگ نے 8,700 ایکڑسے زیادہ رقبے کو جلا دیا ہے۔

رات بھر آگ لگنے کے بعد حکام نے پورے جزیرہ نما کیپ فیرٹ کو خالی کرنے کا حکم دیا۔

مقامی حکام کے مطابق ہمسایہ خطوں میں بسکاروس کے قریب ایک علیحدہ جنگلاتی آگ نے 2,500 ایکڑ سے زیادہ رقبہ کو جلا دیا ہے جس سے 23,000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں رہائشی، کیمپرز اور چھٹیاں منانے آئے سیاح شامل ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ فرانس نے یورپی یونین کے شہری تحفظ کے طریقہ کار کو فعال کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار