وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا فیصلہ، جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی نیلامی پر مکمل پابندی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار جنگل کی لکڑی کی نیلامی کا روایتی اور متنازعہ نظام ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے میں باضابطہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تمام جنگلات میں کٹائی اور لکڑی کی نیلامی پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں نیلامی کے نام پر درختوں کی بے رحمانہ کٹائی کی جاتی رہی اور اس سے حاصل ہونے والا پیسہ صرف چند جیبوں میں چلا جاتا تھا، جس سے نہ صرف جنگلات تباہ ہوئے بلکہ ماحولیات اور جنگلی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ اب یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور میپنگ کے ذریعے شفاف قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے، تاکہ جنگلات کے وسائل محفوظ رہیں۔
پنجاب حکومت کے مطابق ایندھن سمیت ہر قسم کی لکڑی کی نیلامی پر تاحکمِ ثانی پابندی ہوگی۔ مستقبل میں اگر نیلامی کی اجازت دی بھی گئی تو اس سے قبل اعلیٰ معیار کی تصاویر اور وڈیوز فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ یہ اقدام جنگلات کے تحفظ، زمین کو کٹاؤ سے محفوظ بنانے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی پروری کے ڈائریکٹر جنرل کو سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔