اٹلی میں ایک متنازع فیس بک پیج کو پولیس کی تحقیقات کے بعد بند کر دیا گیا، جہاں ہزاروں مرد اپنی شریکِ حیات، بہنوں اور دیگر خواتین کی نجی اور قریبی تصاویر، اکثر ان کی اجازت کے بغیر، شیئر کرتے تھے۔

اس گروپ کا نام “Mia Moglie” (میری بیوی) تھا اور اس کے قریب 32 ہزار مرد ارکان تھے۔

پولیس کی کارروائی اور شکایات

اطالوی پوسٹل پولیس کے مطابق 2019 سے اب تک اس گروپ پر لاکھوں تصاویر شیئر کی گئیں۔ متعدد خواتین کی شکایات کے بعد 20 اگست کو فیس بک کے مالک ادارے میٹا نے یہ صفحہ مستقل طور پر بند کر دیا۔

پولیس حکام کے مطابق انہیں چند گھنٹوں میں ہی ہزاروں شکایات موصول ہوئیں۔

خواتین کا استیصال اور ہتک

پوسٹل پولیس کی ڈپٹی ڈائریکٹر باربرا سٹرپاٹو نے بتایا کہ تصاویر میں زیادہ تر خواتین کی اجازت شامل نہیں تھی اور ان پر نازیبا تبصرے کیے جاتے تھے۔ بعض مرد اپنی بیویوں کی تصاویر بیچنے تک کی پیشکش کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی خوفناک تحریریں میں نے کسی سوشل میڈیا گروپ میں پہلی بار دیکھی ہیں۔

گروپ منتظمین کا نیا پلیٹ فارم

پیج بند ہونے سے قبل اس کے منتظمین نے اپنے اراکین کو ٹیلیگرام پر نئے گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی اور فحش جملوں کے ساتھ ’اخلاقیات پرستوں‘ کو چیلنج کیا۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے فیس بک، انسٹا گرام صارفین کو سب سے بڑی سہولت مفت فراہم کردی

پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے گروپس بند ہونے کے بعد جلد ہی کسی اور نام سے دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔

سماجی ردعمل اور قانون

فیمینسٹ کارکن اور مصنفہ کارولینا کاپریا نے بھی اس گروپ کی شکایت کی اور پولیس کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اٹلی میں 2019 میں ’ریوینج پورن‘ کے خلاف قانون پاس کیا گیا تھا جس کے تحت کسی کی قریبی تصاویر غیر قانونی طور پر پھیلانے پر 6 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پلیٹ فارمز کی مزاحمت

پولیس کے مطابق فیس بک اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز تعاون کرتے ہیں، مگر ٹیلیگرام کی جانب سے تعاون نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ صارفین کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کا دعویٰ نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام پر اے آئی ترجمہ فیچر متعارف کرا دیا

پولیس کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے پلیٹ فارمز فوری طور پر اکاؤنٹس اور چینلز ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کریں گے، اس طرح کے غیر اخلاقی گروپس دوبارہ ابھرتے رہیں گے۔

آئندہ قانونی کارروائی

پوسٹل پولیس تحقیقات مکمل کرنے کے بعد یہ کیس روم کے پراسیکیوٹر کے حوالے کرے گی تاکہ ذمہ داروں پر فردِ جرم عائد کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی غیراخلاقی پیج فیس فیس بک واٹس ایپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اٹلی غیراخلاقی پیج فیس فیس بک واٹس ایپ خواتین کی فیس بک کے بعد

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ