آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بدولت اب ہفتے میں صرف 4 دن کام کرنا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی ’نویڈیا (Nvidia) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جنسن ہوانگ کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت ’اے آئی انقلاب‘ کے آغاز پر ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) کا تیز رفتار استعمال سماجی رویّوں میں بڑی تبدیلی لائے گا، جیسا کہ ماضی کے ہر صنعتی انقلاب نے سماج میں تبدیلیاں پیدا کیں۔
ان کے مطابق ممکنہ طور پر مستقبل میں ہفتے میں 4 دن کام کا خیال ایک حقیقت کا روپ دھار لے گا۔
یہ بھی پڑھیں سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور اوقات کار بھی کم کرنے کا اعلان
فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام ’دی کلا مین کاؤنٹ ڈاؤن‘ میں بات کرتے ہوئے ہوانگ نے کہا:
’مجھے ڈر ہے کہ مستقبل میں ہم آج سے زیادہ مصروف ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ آرتیفیشل انٹیلی جنس وقت طلب کاموں کو سیکنڈز میں مکمل کر دیتی ہے، اس لیے کمپنیاں زیادہ تیزی سے نئے خیالات پر عمل درآمد کر سکیں گی۔
ہوانگ نے یاد دلایا کہ صنعتی انقلاب کے بعد 7 دن یا 6 دن کا ورک ویک کم ہو کر 5 دن کا ہو گیا تھا۔ اب اے آئی کی بدولت ’4 دن کا ورک ویک‘ متعارف ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پیداوار میں اضافہ ہو گا، جی ڈی پی بڑھے گی اور نئے روزگار سامنے آئیں گے۔
’کچھ نوکریاں ختم ہوں گی، کچھ نئی ایجاد ہوں گی، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ہر نوکری تبدیل ہو گی۔‘
ہفتے میں 4 دن کام کی کامیاب مثالیںرپورٹس کے مطابق برطانیہ، نارتھ امریکا اور نیدرلینڈز میں کئی کمپنیوں نے 4 روزہ ورک ویک آزمایا ہے، جس سے پیداوار میں 24 فیصد اضافہ، ملازمین کے بوجھ میں کمی اور نوکری چھوڑنے کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ زیادہ تر ملازمین نے اس شیڈول کو اپنانے کے بعد دوبارہ 5 دن کے ورک ویک پر جانے سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں ہفتے میں چار دن کام ، شارجہ میں تجربہ کامیاب
ہوانگ کا ماننا ہے کہ اے آئی پر مبنی معاشی ترقی معیارِ زندگی بہتر کرے گی، لیکن ساتھ ہی زندگی کی مصروفیت بھی بڑھے گی۔ وہ اسے ایک ’انقلابی دور‘ قرار دیتے ہیں جس میں ہر ملازمت اور ہر صنعت کسی نہ کسی شکل میں بدل جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہفتے میں ورک ویک دن کام
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔