کون کون سی سیاسی شخصیات کس شوگر مل میں حصے دار ہیں ، تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان میں مختلف سیاسی اور دیگر معروف شخصیات شوگر ملز میں شیئرز کی مالک نکلیں، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات میں تفصیلات سامنے آگئیں۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات میں مختلف سیاسی اور معروف شخصیات کے شوگر ملوں میں شیئرز کی تفصیلات سامنے آگئیں۔شوگر ملوں میں شیئرز رکھنے والوں میں حمزہ شہباز شریف، سلمان حمزہ شریف، سالک حسین، مونس الہی، ذکااشرف، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الہی، میاں عامرمحمود اور خواجہ عبد الغنی مجید سمیت دیگر شامل ہیں۔ایس ای سی پی کے دستاویز کے مطابق کمیشن نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کی سفارش پرڈیٹا تیار کیا۔
دستاویز کے مطابق العربیہ شوگرملز میں حمزہ شہباز اور نصرت شہبازسمیت دیگر شیئر ہولڈرز ہیں، اسی طرح رمضان شوگرملز میں حمزہ شہباز شریف، سلمان حمزہ شریف، نصرت شہباز شیئر ہولڈر ہیں۔دستاویز میں شامل تفصیلات کے مطابق پنجاب شوگر ملز کے شیئرز ہولڈرز میں چوہدری شجاعت حسین اور سالک حسین سمیت دیگر شامل ہیں۔اسی طرح آر وائی کے ملز میں مونس الہی اور مخدوم عمرشہریار سمیت دیگر شیئر ہولڈر ہیں، ٹنڈواللہ یارشوگرملز میں خواجہ عبد الغنی مجید 100 فیصدشیئرز کے مالک ہیں۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اشرف شوگر ملز میں ذکا اشرف سمیت دیگر شیئر ہولڈر ہیں، رحیم یارخان شوگر انڈسٹری میں میاں عامر محمود سمیت دیگرکے شیئرز ہیں۔دستاویز کے مطابق مدینہ شوگرملز میں محمد رشید اور محمد مجتبی سمیت دیگر حصے دار ہیں، جبکہ فاطمہ شوگر ملزمیں عباس مختار، فیصل مختار اور فوادمختار سمیت دیگر افراد کے شیئرز ہیں۔
ایس ای سی پی کی دستاویز کے مطابق اتحاد شوگر ملز میں مخدوم ہاشم جوان بخت، مخدوم عمر شہریار سمیت دیگرکے شیئرز ہیں، جبکہ بلوچ شوگر ملز میں دوست علی مزاری اور طارق علی مزاری شیئر ہولڈر ہیں۔چوہدری شوگر ملز میں عبد العزیز عباس شریف، عبد اللہ یوسف شریف، شریف ٹرسٹ سمیت دیگر کے شیئرز ہیں، اسی طرح چیمہ شوگر ملز میں چوہدری انور علی، سردارمحمد عارف نکئی اور محمد شفیع سمیت دیگر شیئر ہولڈر ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردریائے راوی کے کنارے غیرقانونی تعمیرات کرنے والوں کے گرد شکنجہ سخت ،نجی ہائوسنگ سوسائٹی کا مالک گرفتار دریائے راوی کے کنارے غیرقانونی تعمیرات کرنے والوں کے گرد شکنجہ سخت ،نجی ہائوسنگ سوسائٹی کا مالک گرفتار فیلڈ مارشل عاصم منیر نومبر 2027تک آرمی چیف رہیں گے، رانا ثنا اللہ پاکستان نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کیلئے 105ٹن امدادی سامان روانہ کردیا راولپنڈی میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کا ملزم نجی اکیڈمی کا پرنسپل گرفتار چینی اور روسی صدور کے درمیان 150سال تک زندہ رہنے کی باتیں،غیر معمولی گفتگو مائیک پر ریکارڈ ہوگئی سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو سے ترک فضائیہ کے کمانڈر کی ملاقات ، پائیدار دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا.

.. TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سب نیوز

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری