شاہوانی اسٹیڈیم میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت مختلف جماعتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

سربراہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، مگر ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم نے کیا جرم کیا ہے؟ ہم نے جلسے میں ایسا کیا کہا تھا کہ ہمیں اس سانحے کا سامنا کرنا پڑا؟

انہوں نے کہا کہ 75 سال گزر گئے لیکن آج بھی عوام غلامی کا طوق اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہم آقا و غلام کا رشتہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

’بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور ہم سب کو برابر سمجھتے ہیں۔ ہم قومی پرستی پر یقین نہیں رکھتے، ہم سب بھائی ہیں۔‘

اچکزئی نے مزید کہا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی تھانے جلا سکتے ہیں مگر ہم عوام کے جذبات سے کھیلنا نہیں چاہتے۔انہوں نے 8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں پرامن احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا۔

محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ وہ جلسے کرتے رہیں گے۔ اور ڈنکے کی چوٹ پر جلسے کریں گے، کوئی ان کے بچوں کو مارے گا تو وہ اس سڑک سے گزر بھی نہیں سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ہر قوم کو اپنے وطن پر اپنے حقوق ملنے چاہئیں، بلوچ کو بلوچ وطن پر، سندھی کو سندھ پر اور پنجابی کو پنجاب پر حق ہونا چاہیے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ 2 ستمبر کی شب دل چیر دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں ان کے 14 کارکن اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ دھماکے سے 15 منٹ قبل ہمارے کارکن ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کئی سانحات ہو چکے ہیں۔ ریاستی اداروں کو کیسے معلوم نہیں ہوتا کہ خودکش حملہ آور کہاں سے آتا ہے؟ اگر 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل سے سبق سیکھا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

اختر مینگل نے کہا کہ یہ نقصان صرف بی این پی کا نہیں بلکہ بلوچستان کا نقصان ہے۔ ہمارے شہداء نے نہ بینک لوٹا، نہ قتل کیا، نہ حکومت گرائی۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اختر مینگل شاہوانی اسٹیڈیم خودکش دھماکے محمود خان اچکزئی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختر مینگل شاہوانی اسٹیڈیم خودکش دھماکے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان