پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جونگ کے اسٹاف نے میز اور کرسی کو کیوں صاف کیا؟ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی ملاقات کے بعد ایک دلچسپ ویڈیو وائرل ہوگئی، جس میں کم جونگ ان کے اسٹاف کو ان کی چھوئی گئی ہر چیز کو احتیاط سے صاف کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات 3 ستمبر کو دوسری جنگِ عظیم میں چین کی فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی تھی۔
ملاقات ختم ہوتے ہی کم کے ساتھ آئے اہلکاروں نے کرسی کی پشت اور بازوؤں کو کپڑے سے صاف کیا، کافی ٹیبل کو رگڑ کر صاف کیا اور وہ گلاس بھی فوراً ہٹا دیا جس سے کم جونگ نے پانی پیا تھا۔
???? All traces of Kim Jong Un were wiped away after his talks with Putin
They took the glass the dictator drank from and thoroughly wiped down the chair he had been sitting in.
روسی رپورٹر ایلیگزینڈر یوناشیف نے ٹیلیگرام پر یہ ویڈیو شیئر کی، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور صارفین نے اس پر حیرانی اور تجسس کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔