پیوٹن‘ شی جن پنگ اور کِم جونگ اُن امریکا کیخلاف سازش کیلئے اکٹھے ہوئے، ٹرمپ کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
واشنگٹن/برسلز (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ وہ صدرپیوٹن سے بہت مایوس ہیں‘ انہوں نے الزام عائدکیاکہ ولادیمیر پیوٹن‘ شی جن پنگ، اور کِم جونگ اُن بیجنگ میں امریکا کے خلاف سازش کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں‘ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاکہنا ہے کہ نیا عالمی نظام تشکیل پارہا ہے‘عالمی ہلچل میں یورپ کو اپنی جیو پولیٹیکل طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘روس کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے خلاف کوئی سازش نہیں کرہا۔
تفصیلات کے مطابق صدرٹرمپ نے دوسری عالمی جنگ کے اختتام کی چینی تقریبات پر تبصرہ کرتے ہوئے چین پرامریکا کے خلاف سازش کا الزام لگایا۔ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھاکہ چین کی فتح اور عظمت کی جستجو میں کئی امریکی جانیں قربان ہوئیں، امید ہے کہ ان کی بہادری اور قربانی کو درست طور پر یاد رکھا جائے گا!
ٹرمپ نے مزید کہاکہ صدر شی اور چین کے شاندار عوام کو جشن کا ایک عظیم اور دیرپا دن مبارک ہو۔ براہ کرم میری گرمجوشی سے سلام پوٹن اور کم جونگ اُن کو پہنچائیں، جب آپ امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہوں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے چین کو جاپان سے آزادی دلانے میں مدد دی تھی۔
علاو ازیں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا ہے کہ نیا عالمی نظام تشکیل پارہا ہے،بیجنگ کے مناظرعالمی نظام کو براہ راست چیلنج ہے‘ان خیالات کا اظہاریورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے صحافیوں سے گفتگو اور خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاجب ہم صدر شی کو بیجنگ میں روس، ایران اور شمالی کوریا کے رہنماؤں کے ساتھ کھڑا دیکھتے ہیں تو یہ صرف مغرب مخالف مناظر نہیں ہیں بلکہ یہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کو براہِ راست چیلنج ہے۔ یہ صرف علامتی بات نہیں۔ روس کی یوکرین میں جنگ چینی حمایت سے قائم ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا یورپ کو اب سامنا کرنا ہوگا۔
بعد ازاں اپنے خطاب میں کایاکالاس نے کہا کہ نے کہا کہ ہم بین الاقوامی نظام میں تبدیلی کی کوششوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ چین اور روس ایک ساتھ ایسی تبدیلیوں کی قیادت کی بات کرتے ہیں جو سو سال میں نہیں دیکھی گئیں اور عالمی سلامتی کے ڈھانچے کی از سرِ نو تشکیل چاہتے ہیں۔یورپ کو اس عالمی ہلچل کے مقابلے میں اپنی جیو پولیٹیکل طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ایک نیا عالمی نظام تشکیل پا رہا ہے۔ یہ یورپ کے بغیر تشکیل نہیں پائے گا، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ یورپ کیا کرنے کو تیار ہے، کیا ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ یورپ کو جیو پولیٹیکل کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
ادھر روس نے کہا ہےکہ اسے امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاروس، چین اور شمالی کوریا کے رہنماؤں پر امریکہ مخالف سازش کا الزام ایک مذاق ہے اور انہوں نے یہ پوسٹ طنزاً کی ہوگی۔ولادیمیر پیوٹن، شی جن پنگ، اور کِم جونگ اُن بیجنگ میں امریکہ کیخلاف کوئی سازش نہیں کررہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عالمی نظام خلاف سازش انہوں نے کے خلاف یورپ کو نے کہا
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ