پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جانگ کی کرسی کی صفائی، ڈی این اے کے ثبوت مٹا دیے گئے، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جانگ کی کرسی کی صفائی، ڈی این اے کے ثبوت مٹا دیے گئے، ویڈیو وائرل WhatsAppFacebookTwitter 0 4 September, 2025 سب نیوز
بیجنگ (سب نیوز) شمالی کوریا کے سربراہ اور روسی صدر کے درمیان 2گھنٹے سے زائد ملاقات کے بعد کِم جونگ کے سیکیورٹی عملے کی صفائی کرتے ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں۔
روسی صدر کے ساتھ مذاکرات کے دوران کم جونگ جس کرسی پر بیٹھے تھے، ملاقات کے اختتام کے بعد کِم کی کرسی اور ٹیبل کی سیکیورٹی عملے نے مکمل صفائی کی یہاں تک کہ ان کی ٹیبل پر رکھا ہوا گلاس جس میں شمالی کوریا کے سربراہ نے پانی پیا تھا وہ تک اٹھا لیا گیا۔کریملن کے رپورٹر الیگزینڈر یونسشیف کے دعوے کے مطابق کم جونگ کے دو معاونین کو میٹنگ روم میں رکھی ہر اس چیز کو صاف کرتے ہوئے دکھایا گیا جس کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر نے ہاتھ لگایا تھا۔کریملن رپورٹر الیگزینڈر نے دعوی کیا کہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ موجود سیکیوٹی عملے نے کم کی موجودگی کے تمام نشانات کو احتیاط سے مٹا دیا۔
اگرچہ کم اور پیوٹن کے درمیان دوستی کا تاثر نمایاں تھا، تاہم اس ویڈیو نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ شمالی کوریا اپنے رہنما کی صحت اور سیکیورٹی کے بارے میں کس قدر محتاط ہے۔مبصرین کے مطابق یہ اقدامات غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جاسوسی سے بچنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔جاپان کے اخبار نکئی نے جنوبی کوریا اور جاپان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم جونگ ان بیجنگ کے سفر کے دوران اپنی مخصوص سبز رنگ کی بکتر بند ٹرین میں ذاتی ٹوائلٹ ساتھ لے کر گئے تھے تاکہ صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات غیر ملک کے ہاتھوں میں نہ جا سکیں۔
امریکا میں قائم اسٹِمسن سینٹر سے تعلق رکھنے والے شمالی کوریا کے امور کے ماہر مائیکل میڈن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کم کے والد کم جونگ اِل کے دور سے ہی رائج ہیں۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خاص ٹوائلٹ اور کوڑا کرکٹ، فضلہ، اور سگریٹ کی باقیات جمع کرنے والے بیگ اس لیے ہوتے ہیں تاکہ کوئی غیر ملکی ایجنسی چاہے ان سے کتنے ہی اچھے تعلقات کیوں نہ ہوں، ان اشیا سے سیمپل حاصل نہ کر سکے اور ان کا تجزیہ نہ کرے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب کم کے سیکیورٹی پروٹوکول اس قدر سخت دیکھے گئے ہوں۔ 2019 میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہنوئی میں ہونے والی ملاقات کے بعد کم کی سیکیورٹی عملے کو ہوٹل کے کمرے کی کئی گھنٹے تک صفائی کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، حتی کہ کم کے استعمال شدہ بیڈ کا گدا تک باہر لے جایا گیا تھا۔
اسی طرح 2018 میں جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کے ساتھ ملاقات سے قبل، شمالی کوریا کے سیکیورٹی اہلکاروں نے کم کی کرسی اور میز پر سینیٹائزر چھڑک کر انہیں صاف کیا تھا۔2023 میں ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران بھی شمالی کوریا کے سربراہ کی کرسی کو پہلے سینیٹائزر سے صاف کیا گیا، اور پھر ایک محافظ نے میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے کرسی کا اچھی طرح جائرہ لیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایم ایف نے پاکستان کے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں 9خامیوں کی نشاندہی کر دی آئی ایم ایف نے پاکستان کے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں 9خامیوں کی نشاندہی کر دی ججز نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا،جو تباہی ہمارے ہاتھوں ہوئی ہمیں تسلیم کرنا چاہئے، جسٹس اطہرمن اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ، مختلف سیکٹرز میں پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا سی ڈی اے کا آرڈر معطل، نوٹس جاری جناح ہاؤس حملہ کیس: علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کی بھی ضمانت منظور شیر افضل مروت کس کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے؟ علیمہ خان نے الزامات کا پنڈورا کھول دیا سستا آٹا فراہم کرنے سے فلور ملوں کے انکار پر حکومت کا ردعمل سامنے آگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ملاقات کے بعد کی کرسی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔