بھارت نے بلوچستان میں مداخلت کی اور ٹارگٹ کلنگ مہم چلائی، امریکا کی ترجیح اب پاکستان ہے، عالمی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
بھارت نے بلوچستان میں مداخلت کی اور ٹارگٹ کلنگ مہم چلائی، امریکا کی ترجیح اب پاکستان ہے، عالمی جریدہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور مثر ملٹری ڈپلومیسی عالمی افق پر کامیابیوں کی نوید بن گئی، عالمی منظر نامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ منظرعام پر آگئی۔
بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق امریکی ترجیحات میں تبدیلی آئی ہے اور اس کا جھکا بھارت کی بجائے پاکستان کی جانب واضح ہے، پاکستان امریکا کے لیے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطی میں اہم کردار کا حامل ہے، حالیہ پاک بھارت تنازع نے بھی امریکا کے اندازے عسکری طاقت کے حوالے سے یکسر بدل دیے ہیں۔
دی ڈپلومیٹ نے لکھا کہ بدلتے حالات کے پیش نظربھارت کے لیے نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کا کردار بھی ادا کرنا مشکل نظر آرہا ہے، امریکا پاکستان تعلقات کے فروغ سے مشترکہ مفادات کی ہم آہنگی مزید بہترہو گئی ہے، امریکا اب بھارت کو جنوبی ایشیا میں متبادل شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھ رہا، امریکی ترجیحات میں تبدیلی بھارت کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
عالمی جریدے نے لکھا کہ گزشتہ کئی سال سے بھارت امریکی ترجیحات میں شامل تھا مگر اب وہ دور ختم ہوچکا ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے آمادگی دکھاتا رہا ہے، پاکستان کے مطابق بھارت نے امن کی پیش کش کا جواب ہمیشہ کشیدگی بڑھا کر دیا، بھارت نے بلوچستان میں خفیہ مداخلت بڑھائی اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ مہم چلائی۔
جریدے کے مطابق مئی 2025 میں پاک بھارت تنازعے نے ایٹمی تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا مگر امریکا نے پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کیا، بھارت کا مذاکرات سے مسلسل انکار امریکا کے ساتھ تعلقات میں مستقل بے یقینی اور بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتعلیمی اداروں میں شجر کاری میں حصہ لینے پر طلبا کیلئے خصوصی نمبرز مختص کئے جائیں ، چیئرمین سی ڈی اے تعلیمی اداروں میں شجر کاری میں حصہ لینے پر طلبا کیلئے خصوصی نمبرز مختص کئے جائیں ، چیئرمین سی ڈی اے اقوام متحدہ کا پاکستان میں سیلاب کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جانگ کی کرسی کی صفائی، ڈی این اے کے ثبوت مٹا دیے گئے، ویڈیو وائرل آئی ایم ایف نے پاکستان کے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں 9خامیوں کی نشاندہی کر دی ججز نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا،جو تباہی ہمارے ہاتھوں ہوئی ہمیں تسلیم کرنا چاہئے، جسٹس اطہرمن اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ، مختلف سیکٹرز میں پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا سی ڈی اے کا آرڈر معطل، نوٹس جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں بھارت نے
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔