مریم نواز کے سیلاب متاثرین کےلیے پورٹیبل واش رومز؛ حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پوسٹ کے عنوان سے ایک پورٹیبل واش روم کی تصویر وائرل ہورہی ہے جس پر صارفین شدید تنقید کررہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چند روز قبل اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی تھی، جس میں ایک جدید پورٹیبل واش روم دکھایا گیا تھا۔
تصویر کے کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ یہ واش روم سیلاب متاثرین کے لیے چنیوٹ کے ریلیف کیمپ میں لگایا گیا ہے۔ تاہم اس تصویر کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ صارفین نے نشاندہی کی کہ یہی تصویر 2023 میں او ایل ایکس پر ایک اشتہار میں بھی موجود تھی۔
مریم نواز کے ٹویٹ پر کئی صارفین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے پرانی تصویر کو نیا بنا کر پیش کیا ہے، بعض نے تو اسے ’’جعلی خبر‘‘ قرار دے دیا۔
ایک صارف نے براہِ راست ایکس انتظامیہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرانی تصویر کو حالیہ منصوبے کے طور پر پیش کرکے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’محترم چیف منسٹر کو اپنی پی آر ٹیم کو فارغ کر دینا چاہیے۔
اس معاملے کے منظرعام پر آنے اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری سامنے آئیں اور تازہ تصاویر و ویڈیوز شیئر کیں، جن میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ چنیوٹ کے ریلیف کیمپ میں واقعی ایسے پورٹیبل واش رومز تیار اور نصب کیے گئے ہیں۔
ان تصاویر میں جیومیٹرک ٹیگز بھی شامل کیے گئے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ فوٹیج موجودہ وقت میں ہی بنائی گئی ہے۔
ایک پرانی تصویر کے استعمال نے نہ صرف حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا بلکہ اس پر عوامی اعتماد کے بارے میں سوالات بھی اٹھائے۔ اگرچہ بعد کی فوٹیج نے حکومت کے دعوے کو تقویت دی، لیکن ابتدائی طور پر غلط تصویر شیئر کیے جانے سے بحث نے غیر ضروری طور پر جنم لیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پورٹیبل واش مریم نواز
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔