عتیقہ اوڈھو نے فیروز خان کو بری اداکاری پر آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
سینئر اور خوبرو اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ایک بار پھر اپنی بے باک رائے سے سب کو چونکا کر رکھ دیا۔
عتیقہ اوڈھو نے ایک ڈرامے پر تنقیدی رائے دیتے ہوئے اداکار فیروز خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہیرو پن سے باہر نہیں نکل رہے ہیں۔
سینیئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے مزید کہا کہ فیروز خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہیرو ازم سے باہر ہی نہیں نکلتے۔ وہ کردار میں ڈوبنے کے بجائے اپنے تاثر اور امیج کو سنبھالنے میں لگے رہتے ہیں۔
عتیقہ اوڈھو نے مزید کہا کہ فیروز خان کی باڈی لینگویج سخت اور بناوٹی لگتی ہے وہ زیادہ محنت اپنی شکل و صورت اور اسٹائل پر کرتے ہیں اس لیے ان کی اداکاری قدرتی لگنے کے بجائے ریہرسل شدہ محسوس ہوتی ہے۔
اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے مزید کہا کہ اس رویے کی وجہ سے فیروز خان کو اصل اداکار بننے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
خیال رہے کہ فیروز خان اپنی پُرکشش شخصیت اور رومانوی کرداروں کے باعث مداحوں کے پسندیدہ ہیں لیکن عتیقہ اوڈھو کا یہ بیان یقینی طور پر شائقین اور ڈرامہ انڈسٹری میں نئی بحث کو جنم دے گا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: عتیقہ اوڈھو نے فیروز خان کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔