ڈریپ نے 5 دوائیں جعلی قرار دے دیں، استعمال نہ کرنے کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
اسلام آباد: جعلی ادویات کے خلاف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے 5 ادویات کو جعلی قرار دے دیا ہے اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈریپ کی جانب سے ملک بھر میں جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، ڈریپ نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیفم کیپسول 400 ملی گرام کو جعلی قرار دے دیا گیا ہے جو مریضوں کی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔
اسی طرح ایسفی کوف سیرپ 125 ملی لیٹر بھی جعلی ثابت ہوا ہے، جس کے استعمال سے نقصان ہوسکتا ہے اور ڈروفا-10 ٹیبلٹ اور ڈائیڈروکیر 10 ملی گرام کی گولیاں بھی غیر معیاری اور جعلی پائی گئی ہیں۔
ڈریپ کے مطابق ڈروپلکس 10 ملی گرام ٹیبلٹ کو بھی جعلی قرار دیا گیا ہے جس کے استعمال سے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ڈریپ نے خبردار کیا ہے کہ جعلی دواؤں کا استعمال مریضوں کی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
ڈرپک کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز، فارماسسٹس اور اسپتال سپلائی چین میں آنے والی مشکوک دواؤں پر کڑی نظر رکھیں۔
ڈریپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ صرف مستند اور رجسٹرڈ فارمیسیز سے ہی دواؤں کی خریداری کریں اور اگر کسی مریض نے مشکوک دوا استعمال کی ہے تو فوری طور پر قریبی ڈاکٹر یا اسپتال سے رجوع کرے۔
TagsImportant News from Al Qamar.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے اور اس بارے میں کوئی دوسرا فیصلہ نہیں کر سکتا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ صرف و صرف کشمیر کرے گا، نہ اسلام آباد، نہ پنجاب، نہ سندھ، نہ بلوچستان اور نہ ہی خیبرپختونخوا اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ یہی ان کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ27 جولائی کو برابری کے حق اور عوامی نمائندگی کے لیے تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنایا جائے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ عوام کی حمایت سے منتخب ہونے والے نمائندے کشمیری عوام کے حقوق اور مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں پولنگ ہوگی، جبکہ دیگر مراحل اگست کے پہلے عشرے میں مکمل کیے جائیں گے۔