قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے، صدر مملکت کا یوم فضائیہ پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے یومِ فضائیہ کے موقع پر قوم کی جانب سے پاک فضائیہ کے شہداء، غازیوں اور تمام جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
اپنے خصوصی پیغام میں صدر نے کہا کہ قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے، جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور بے مثال جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا۔
صدر زرداری نے 1965 کی جنگ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے اس تاریخی معرکے میں شجاعت اور بہادری کی ایسی داستان رقم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف جنگ کے دوران بلکہ ہر مشکل وقت میں پیشہ ورانہ مہارت، بلند حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے معرکۂ حق، ’’بنیان المرصوص‘‘ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ کی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے دنیا کو حیران کیا ہے اور اس کی جدید صلاحیتیں ملکی دفاع کی مضبوط ضمانت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ نے ہمیشہ ملک کی فضائی حدود اور قومی سالمیت کا بھرپور دفاع کیا ہے، جس پر پوری قوم کو ناز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ پاک فضائیہ نے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔