دوراکہ آپریشن : سنہ 1965 میں پاک بحریہ کی وہ کارروائی جس نے دشمن کی بربادی کا تماشا دنیا کو دکھایا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
پاک بھارت کی سن65 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی جانب سے تشکیل دیے گئے دوارکہ آپریشن میں نہ صرف پاکستانی سرفروشوں نے دشمن کے کراچی کی جانب ممکنہ ناپاک ارادوں اور مہم جوئی کو ناکام بنایا بلکہ بھارتی آبی فوج کےاوسان ہی خطا کردیےتھے۔
پاک بحریہ کی جانب سے اس آپریشن کو سومناتھ مندر پر محمود غزنوی کے حملوں کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے، فرق بس یہ ہے کہ 18 ویں حملے میں تلواراورتیر جبکہ آپریشن دوارکہ میں بھاری بھرکم توپیں اورگولہ بارود استعمال کیا گیا۔
سامان حرب سے لیس 6 بحری جنگی جہاز ڈسٹر ائیرفریگیٹس کے تابڑ توڑ حملوں کے دوران دشمن ملک بھارت نے صرف اپنی بربادی کا تماشا دیکھا، اس اہم مشن میں سب میرین پی این ایس غازی بھی سمندرکی 400 فٹ گہرائی میں موجود تھیْ
اس پیچیدہ آپریشن کے لیے پاک بحریہ کے جری افسران وجوان گہرے سمندرمیں 200ناٹیکل مائل(120میل)کا طویل سفرطےکرکےبھارتی حدود میں داخل ہوئے،آپریشن دوارکہ کا کوڈنام سومناتھ تھا،اس مشن کےذریعے پاک بحریہ پہلی مرتبہ دشمن فوج سے برسرپیکارہوئی۔
تیکنیکی اعتبارسے ایک دشوارسمندری آپریشن کے دوران پاک بحریہ کے جنگی جہازوں نے ساڑھے تین ہزارپاونڈزبارود کےگولے بیک وقت مشن پرداغ کردشمن ملک کےاہم تنصیبات کے پرخچے اڑادیے تھے۔
ممبئی کی بندرگاہ موجود پاک بحریہ کی آبدوزپی این ایس غازی بھارتی ائیرکرافٹ کیریئرسمیت دیگربحری اثاثوں کے راہ کی رکاوٹ بنی رہی
سن 65 کی پاک، بھارت جنگ کے دوران جب پاکستانی افواج مختلف بری اورفضائی محاذوں پردشمن ملک سے برسر پیکار تھی، اسی جنگی ماحول کے دوران 7 اور 8 ستمبرکی ایک تاریک رات کو جب سمندرمیں ہر جانب گہرا سکوت تاری تھا۔
ایسے میں پاک بحریہ کے جنگی بیڑے میں شامل 6 دیوہیکل بحری جنگی جہاز200 ناٹیکل مائل(120میل)کا طویل سمندری سفر طے کرنے کے بعد دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے لیےسمندرکے سینے پر کسی پہاڑ کی مانند موجود تھے۔
ان تباہ کن جہازوں کے ہمراہ 400 فٹ کی گہرائی میں آبدوزپی این ایس غازی بھی موجود تھی، آپریشن دواکہ کو سومناتھ مندر پر18 واں حملہ بھی قراردیا جاتا ہے کیونکہ سومناتھ کا مندراسی ساحلی علاقے میں واقع ہے۔
پاک بحریہ کی جانب سے اس آپریشن کا آغازانتہائی ناگزیرتھاکیونکہ جنگی محاذوں پر بھارت سے اڑنے والے جنگی بمبارجہازوں کو دوارکہ ریڈار سے تیکنیکی معاونت حاصل تھی، یہ مشن اس لحاظ سے بھی ضروری تھا کہ اب بھارتی سورماوں نے کراچی پرمہم جوئی کے سپنے دیکھنے شروع کردیے تھے مگر دشمن ملک کے یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بجائے سمندر کے گہرے پانیوں میں غرق ہوگئے۔
مشن کے انتہائی نزدیک پہنچ کرپاک بحریہ کے جنگی جہازوں کے توپوں کے دہانے پرسب سے پہلے بھارتی ہائی فریکوینسی ریڈارآیا، جس کے بعد نیول ائیراسٹیشن، لائٹ ہاوس اوردیگراہم تنصیبات کو پے درپے نشانہ بنایاگیا۔
اس دوران دشمن ملک کی افواج صرف اپنی بربادی دیکھتی رہی اورپاکستان سے بحری اثٓاثوں کے لحاظ سےکئی گنا بڑی بھارتی بحریہ کوبھاری نقصان اورشکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔
سن 1965 کی پاک بھارت جنگ میں دوارکہ آپریشن ملک کے دفاعی لحاظ سے اور پاکستان نیوی کے لیے ایک بہت ہی اہم مشن تھا کیونکہ جنگی محاذ کھلنے کے بعد پاکستان ائیرفورس پرکشمیرمیں بہت زیادہ دباو تھا۔
جس کے لیے فوری حکمت عملی انتہائی ضروری تھی، اس آپریشن کے دواہم مقاصد تھے، جس میں اولین یہ کہ دوارکہ میں ایک ریڈاراسٹیشن تھا، جو دشمن ملک کے بحری اورفضائی جہازوں کومدد فراہم کررہا تھا، جسےتباہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا،دوسرا اہم مقصدیہ تھا کہ سمندرمیں دشمن ملک کو کچھ ایسے حالات کا شکار کیا جائے۔
جس کی وجہ سے نہ صرف اس کے راستے مسدودہوبلکہ پاکستان کی جانب سےدفاع کا بھرپور ماحول پیدا ہوسکے، خوش آئند بات یہ رہی کہ پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں شامل تمام جہازمکمل طورپر فعال تھے، عام حالات میں اکثرجہازمینٹینس میں ہوتے ہیں۔
دوارکہ آپریشن کی لیڈ کرنے والے کروزر میں کمانڈرپاکستان پاکستان فلیٹ ایس ایم انورخود موجود تھے، اس مشن میں چھ ڈسٹرائیرفری گیٹس ان کے زیرکمان تھے، یہ سارے بحری جہاز200 ناٹیکل مائل(350کلومیٹر) کا سمندری سفرطے کرنے کے بعد بھارتی حدود میں دواکہ پہنچے، انھوں نے رات میں بمباری شروع کردی۔
ہربحری جہاز سے ایک ساتھ 50 راونڈز فائر کیے گئے، ایک راونڈ 100 پاونڈ وزنی تھا، اس مشن میں ساڑھے تین ہزار پاونڈز گولہ وبارود نےعمارت کوتباہ کیا اورجنگی ماحول پرگہرے اثرات چھوڑے،اس آپریشن نے نہ صرف بھارت پردھاک بیٹھی بلکہ پاکستان کی اجارہ داری اس بحری فوج کے سامنے قائم ہوئی،جو طاقت میں چارگنا بڑی تھی،بھارتی بحری جہازاس عمل کے بعد مکمل طورپرمفلوج ہوکررہ گئے۔
سب سے نمایاں کردارپاکستانی آبدوزپی این ایس غازی کا تھا،جو خطے میں واحد سب میرین تھی،پی این ایس غازی کو بمبئی کی ہاربرکے سامنے کھڑاکردیا گیا، جس کی وجہ سے انڈین ائیرکرافٹ کیریئر(سمندرمیں جنگی جہازوں کے ٹیک آف لینڈنگ کے لیے پلیٹ فارم) بھی بندرگاہ سے باہر نہیں آسکا۔
اس آپریشن سے ایک اورفائدہ یہ ہوا کہ پاکستان کے لیے ایمونیشن لانے والے باغ جناح نامی جہازوں کودوارکہ آپریشن میں شریک جہازوں نے ہی تحفظ فراہم کرنا تھا۔
تویوں یہ سمندری راہداری بھی متوازن ہوگئی،دوارکہ آپریشن سے نہ صرف انڈین نیوی کی جنگی صلاحیتیں متاثرہوئیں بلکہ بھارتی فضائیہ نے بھی محدود ہوکرکراچی ہاربریا کسی دوسرے پاکستانی مقام پرمہم جوئی کی کوشش نہیں کی۔
دوارکہ آپریشن اگلی صبح تک مکمل ہوا،سن 65کی جنگ 23 ستمبرتک جاری رہی، اس دوران پاک بحریہ سمندروں میں خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طورپرچوکنا رہی۔
سیزفائر کے بعد بحری اثاثے سمندر میں کچھ عرصے کے لیے موجود رہے تاکہ دشمن ملک بھارت کی جانب کوئی اورمہم جوئی نہ کی جاسکے، دوارکہ آپریشن میں پاک بحریہ کے دوارکہ میں نصب ریڈارکو تباہ کرنا، ہندوستانی فضائیہ کوشمال سے ہٹانا، بھارتی افواج کے حوصلےپست کرنے جیسے اہم مقاصد شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دوارکہ آپریشن ایس غازی پاک بحریہ کے پاک بحریہ کی کہ پاکستان کی جانب سے دشمن ملک کے دوران ملک کے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر عہدیدار ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر برائے تحقیق، وکالت، پالیسی اور مہمات، ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Instead of waging a campaign against the @IntlCrimCourt and continuing to arm a government committing genocide, US authorities should uphold human rights and respect the rule of law. @NYCMayor Mamdani is right: @netanyahu should be arrested, and brought before the International… pic.twitter.com/mai4rtENAh
— Erika Guevara Rosas (@ErikaGuevaraR) July 23, 2026
ایریکا گویرا روزاس نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے حالیہ مؤقف کی حمایت کی، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر بنیامین نیتن یاہو نیویارک کا دورہ کریں تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو جنگی مجرم، اس کی جگہ جیل ہے، ظہران ممدانی ستمبر میں اسرائیلی وزیراعظم کو گرفتار کرنے پر بضد
روزاس نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکام کو انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات اور قانونی کارروائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے، ہنگری کے نومنتخب وزیراعظم کا بڑا اعلان
اسرائیل آئی سی سی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، جبکہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے تناظر میں اسرائیلی قیادت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سفارتی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمنسٹی انٹرنیشنل جنگی جرائم نیتن یاہو