ٹرمپ کو ہتک عزت کیس میں 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر ہرجانے کی سزا برقرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
امریکا کی ایک عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں دیا گیا 83.3 ملین ڈالر (یعنی تقریباً 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر) کا ہرجانہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ۔
یہ فیصلہ معروف مصنفہ جین کیرول (Jean Carroll) کی جانب سے دائر اس مقدمے میں سامنے آیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں ہراساں کیا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جیوری کا دیا گیا فیصلہ حقائق پر مبنی اور مکمل طور پر درست ہے۔
جین کیرول کا کہنا ہے کہ 1990 کی دہائی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر جنسی حملہ کیا تھا، اور جب انہوں نے یہ بات منظر عام پر لائی تو ٹرمپ نے انہیں جھوٹا اور بدنام کرنے والا کہا۔ اسی بیان بازی پر مصنفہ نے ٹرمپ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
ٹرمپ نے جیوری کے فیصلے کو “مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے اسے چیلنج کیا، تاہم اپیل کورٹ نے ہرجانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ کو جین کیرول کو بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
یہ مقدمہ نہ صرف ٹرمپ کی قانونی مشکلات کو بڑھا رہا ہے بلکہ ان کی سیاسی ساکھ پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ آئندہ صدارتی انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔