گرین ہاؤس گیسز، کرہ ارض کے لیے کتنی خطرناک ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کرہ ارض اس وقت جس بڑے خطرے سے دوچار ہے وہ ہے بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار۔
یہ وہ گیسیں ہیں جو سورج کی گرمی کو زمین کی فضا میں قید کر لیتی ہیں، نتیجتاً درجہ حرارت بڑھتا ہے اور عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی دن بدن تیز رفتار ہوتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں، سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے، ہیٹ ویوز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے بين الاقوامی معاہدوں کَیوتو پروٹوکول اور پیرس معاہدہ کے مطابق درج ذیل گیسوں کو گرین ہاؤس گیسیں قرار دیا گیا ہے:
1- کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂)کرہ ارض پر یہ سب سے زیادہ مقدار میں اخراج والی گیس وہ ہے جو جنگلات کے کٹنے صنعتوں کے چلنے اور ایندھن جلانے سے پیدا ہوتی ہے، یہ ریفرنس گیس مانی جاتی ہے اس کا گلوبل وارمنگ پوٹینشل (GWP) 1 ہے۔
2- میتھین (CH₄)میتھین انتہائی طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے، اس کا اخراج زراعت میں چاول کی کاشت، مویشیوں، تیل و گیس کی پیداوار اور لینڈ فلز سے ہوتا ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے 100 سالہ پیمانے پر 28 تا 34 گنا زیادہ طاقتور ہے۔
3- نائٹرس آکسائیڈ (N₂O)یہ زیادہ تر کھاد کے استعمال صنعت اور ایندھن جلانے سے خارج ہوتی ہے، 100 سالہ پیمانے پر اس کا GWP کاربن ڈائی آکسائیڈ سے 265 سے 298 ہے۔ باالفاظ دیگر یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔
4- فلورینیٹڈ گرین ہاؤس گیسزا- ہائیڈرو فلوورو کاربنز
ب- پر فلوورو کاربنز
پ- سلفر ہیکسا فلورائیڈ
ج- نائٹروجن ٹرائی فلورائیڈ
یہ سب فلورینیٹڈ گرین ہاؤس گیسز (F-gases) کہلاتی ہیں، جو انسانی سرگرمیوں انڈسٹری، ریفریجریشن، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ وغیرہ سے خارج ہوتی ہیں۔ ان کی مقدار فضا میں کم ہوتی ہے لیکن گرمی روکنے کی صلاحیت (GWP) بہت زیادہ ہے اسی لیے یہ ماحولیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ تمام گیسیں حرارت کو زمین کی فضا سے باہر جانے سے روکتی ہیں، جسے گرین ہاؤس ایفیکٹ کہا جاتا ہے، نتیجتاً زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو صدی کے اختتام تک درجہ حرارت میں 2 سے 3 ڈگری اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت خشک سالی، سمندری طوفان، زرعی پیداوار میں کمی اور انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب کرے گا۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج توانائی کے شعبہ، بجلی گھروں اور گاڑیوں میں کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے ہوتا ہے۔ کچرا، لینڈ فلز، کوڑے، زراعت اور مویشیوں کے نظام ہاضمہ سے میتھین اور کھاد کے زیادہ استعمال سے نائٹروجن آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ صنعت، سیمنٹ، اسٹیل اور کیمیکل انڈسٹری بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ پیدا کرتی ہیں۔
ان گیسوں کے اخراج میں کمی کے لئے جو اقدامات ناگزیر ہیں ان میں:
زیر استعمال توانائی میں تبدیلی کرنا ہو گی، کوئلہ اور تیل کی جگہ شمسی، ہوائی اور پن بجلی جیسی قابل تجدید توانائی اپنانا ہو گی۔
ٹرانسپورٹ کے ایندھن میں متبادل میں برقی گاڑیاں (EVs)، پبلک ٹرانسپورٹ اور بڑے ٹرکوں میں ایندھن کی بچت والی ٹیکنالوجیز مستعمل کرنا ہوں گی۔
شعبہ زراعت میں جدت لانا ہو گی کھاد کا درست استعمال، جانوروں کی خوراک میں تبدیلی، چاول کے کھیتوں میں پانی کے انتظام کے جدید طریقے رائج کرنا ہوں گے۔
صنعتی اصلاحات لاگو کرنا ہوں گی، کم کاربن ٹیکنالوجیز، نائٹرس آکسائیڈ کو کم کرنے والے کیٹالسٹس اور تعمیرات میں گرین بلڈنگ مٹیریل پر منتقل ہونا ہو گا۔
ان گیسوں کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے مختلف شعبہ جات میں متعدد اقدامات لازم ہیں مثلاً:
جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کا بڑا ذریعہ ہیں ان کے رقبے میں خاطر خواہ اضافے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
سمندر کا پانی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو حل کرتا ہے اور فائٹوپلانکٹن کے ذریعے یہ گیس سمندر کی تہہ میں محفوظ ہو جاتی ہے۔
مینگرووز اور سی گراس بلیو کاربن اسٹور کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
انجینئرڈ اسٹوریج: کاربن کیپچر اینڈ اسٹوریج (CCS) کے ذریعے صنعتوں سے نکلنے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا سے زمین کے اندر محفوظ کیا جاتا ہے ان مقامات پر جہاں لاکھوں سال تک قدرتی گیس اور تیل موجود رہا ہو۔
لینڈفل گیس کیپچر کے ذریعے کچرے سے نکلنے والی میتھین کو پائپنگ کے ذریعے جمع کر کے بجلی بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فلورینیٹڈ گیسز کی ری سائیکلنگ: ایئر کنڈیشنرز اور ریفریجریٹرز سے پرانی گیسیں نکال کر دوبارہ استعمال یا محفوظ طریقے سے ختم کئے جانے سے ان کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
گرین ہاؤس گیسیں صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ میتھین، نائٹرس آکسائیڈ اور صنعتی گیسیں بھی کافی خطرناک گیسیں ہیں بلکہ ان کی شدت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی زیادہ ہے۔
ان گیسوں کے اخراج میں کمی اور محفوظ ذخیرہ کرنے کے اقدامات بیک وقت اپنانے ہوں گے، کیونکہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے جس کا حل پالیسی، ٹیکنالوجی اور عوامی شعور کے امتزاج میں ہے، اگر ہم نے بروقت فیصلے نا کیے تو آنے والی نسلوں کے لئے زمین ایک غیر محفوظ مقام بن سکتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گرین ہاؤس ماحولیاتی تبدیلی ہیٹ ویوز کاربن ڈائی آکسائیڈ گرین ہاؤس گیس آکسائیڈ کو کے ذریعے سکتا ہے کرنا ہو ہوتی ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔