نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے نے آن لائن جوئے کی تشہیر کے معاملے میں معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد آئے دن خبروں میں رہنے والے یوٹیوبر رجب بٹ کو بھی ایجنسی کی جانب سے نوٹس موصول ہوگیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو بیان میں رجب بٹ نے نوٹس ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس ضمن میں این سی سی آئی کی جانب سے نوٹس کی بہت پہلے توقع تھی جو بالآخر اب موصول ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی آن لائن جوے کی تشہیر کے الزام میں گرفتار، ایف آئی آر درج

’مجھے آئیڈیا تھا کہ نوٹس آئے گا، تھوڑا لیٹ آیا۔۔۔ہم بالکل قانون کا احترام کرتے ہیں، قانونی نوٹس کا قانونی طریقے سے جواب دیں گے، میرے وکیل اس کا جواب دیں گے۔‘

رجب بٹ کا کہنا تھا کہ ان کے وکیل این سی سی آئی کی جانب سے موصول ہونیوالے نوٹس کا 9 ستمبر کو قانونی جواب جمع کرائیں گے، اگر وکیل انہیں پاکستان آنے کا کہیں گے تو وہ وطن واپس آئیں گے۔

مزید پڑھیں: ڈکی بھائی کی گرفتاری پر ’سسٹرولوجی‘ کی اقرا کنول کا مؤقف بھی سامنے آگیا

’اگر میرا وکیل کہے گا کہ میں پاکستان آجاؤں تو میں آجاؤں گا، اگر وہ کہے گا کہ نہیں تو میں نہیں آؤں گا، ان کے لیگل نوٹس کا ہم لیگل جواب بھجوادیں گے، ابھی تو یہی خبر ہے۔‘

واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے 17 اگست کو کارروائی کرتے ہوئے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آن لائن جوئے کی ایپس کو فروغ دینے میں ملوث معروف یوٹیوبر سعد الرحمان ذوالفقارعرف ڈکی بھائی کو گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں:

دوسری جانب اسی کیس سے وابستہ تحقیقات کے ضمن میں این سی سی آئی اے نے ندیم مبارک عرف نانی والا اور محمد ہریرہ کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں، رجب بٹ کی طرح ان دونوں کو 9 ستمبر کواین سی سی آئی اے لاہور میں طلب کیا گیا ہے۔

ایجنسی کے مطابق ملزم ڈکی بھائی سمیت باقی تینوں یوٹیوبرز  پر الزام ہے کہ وہ آن لائن ٹریڈنگ ایپس کے ذریعے مالی فراڈ میں ملوث ہیں، نوجوانوں کو آن لائن جوئے کی ایپس میں سرمایہ کاری کے لیے اکساتے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ایپس کو فروغ دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این سی سی آئی اے جوئے کی تشہیر ڈکی بھائی رجب بٹ نوٹس نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یوٹیوبر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: این سی سی ا ئی اے جوئے کی تشہیر ڈکی بھائی نوٹس نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یوٹیوبر سی سی ا ئی اے ڈکی بھائی کی تشہیر جوئے کی آن لائن

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی