عالمی برادری بھارتی آبی دہشت گردی روکنے میں ہمارا ساتھ دے، پاکستانی مندوب
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے پاکستان میں ہونے والے سیلاب کے نقصانات کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے ساتھ کھڑا ہونے کا مطالبہ کردیا۔
اقوام متحدہ میں سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے آبی بحران کے چلیز اور لائحہ عمل کے موجود پر اہم اجلاس ہوا۔ جس میں خطاب کرتے ہوئے مستقل پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے فصلیں تباہ ہوئیں اور لوگ بے گھر ہوئے، پانی کو بطورہتھیار استعمال نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس موقع پر عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں واٹر سیکیورٹی اہم چیلنج ہے، بھارت کے سندھ طاس معاہدے جیسے اقدامات نے عالمی یقین دہانیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے قانون کے تحت بھارت سندھ طاس معاہدے کےتحت ڈیٹا شیئرکرنے کا پابند ہے۔
قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے قطرپر بلااشتعال حملہ کیا، اسرائیلی جارحیت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،وزیراعظم شہبازشریف نے وفد کے ہمراہ قطرکا دورہ کیا۔ عاصم افتخار کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے دانستہ طورپر مذاکرات میں ثالث پر حملہ کیا، قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا پاکستان مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عاصم افتخار
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :