پاکستان کے پاس جس طرح بھارت کو لپیٹا اسی طرح اسرائیل کو لپیٹنے کی صلاحیت ہے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل کے قطر پر حملے اور فلسطینیوں پر ہونے جارحیت کی مذمت کرتےہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹنے کی صلاحیت ہے، جس طرح بھارت کو چند گھنٹوں میں لپیٹا تھا۔
لیاقت باغ راولپنڈی میں تحفظ ختم نبوت اور دفاع پاکستان کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند مشکوک لوگ معاشرے میں اضطراب اور شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں، سپریم کورٹ میں ان عناصر کو شکست دی اور ان کی کمر توڑ دی ہے اور وہ دوبارہ اپنی کمر سیدھی نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے لیے کئی محاذ کھلے ہیں، اسرائیل کے وحشیانہ پن سے 70 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، بوڑھے، بچے، خواتین اور غیر مسلح افراد پر بم باری بزدلی ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل نے دوحا میں حماس کی قیادت پر فضائی حملہ کیا، لبنان، شام اور یمن پر حملہ کر چکا ہے، یہ ملکوں کی خود مختاری پر حملہ ہے، حماس اور قطر کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب اسرائیل وجود میں آیا تو قراداد پاکستان میں لکھا گیا کی فلسطینیوں کی بستیوں پر یہودیوں کی بستیاں ناقابل قابل قبول ہے اور یہ قائد اعظم کا اعلان تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل وجود میں آیا ان کی خارجہ پالیسی کے مطابق مسلم امہ کا وجود ختم ہوگا، امت مسلمہ کو احساس ہو اسلامی دنیا کے حکمرانوں کا اجلاس دوحا میں بلا رہے ہیں، اللہ کرے امت مسلمہ کے حکمرانوں کا ضمیر جاگے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی خواہش ہے اسلامی وجود اور بلاک ہو، بیت المقدس کی آزادی کے لیے مشترکہ دفاعی قوت استعمال کریں، پاکستان کی صلاحیت ہے وہ اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹ سکے، جس طرح پاکستان نے بھارت کو چند گھنٹوں میں لپیٹا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹرمپ کہتا ہے اسرائیل بات نہیں مان رہا اور پھر حملہ ہو جاتا ہے، الزام کس کو دیں پہلے حماس قیادت اکٹھی کی پھر حملہ کروا دیا، اسرائیل گریٹر اسرائیل کی بات کرتا ہے، وہ حرمین شریفین پر اسرائیل کی توسیع اور قبضے کی بات کرتا ہے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ دو ریاستی نظریہ نہیں بلکہ ایک فلسطین کا نظریہ ہے۔
انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلیاں نہ کیا کرو، نتیجے تبدیل نہ کیا کرو۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیلاب کی تباہی ہے، لوگ بے گھر اور شہید ہو چکے ہیں، ہمیں ان مظلوموں کی طرف دیکھنا چاہیے، ہمارے بچے اور مائیں ہیں جو کرب سے زندگی گزر رہے ہیں، سب مظلوموں کی مدد کریں اور جو مدد کررہے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سفاکیت کے خلاف پیغام دینا ہوگا اور قوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہے، یہاں سے سیلاب زدگان کے لیے پیغام دینا ہوگا کہ ان کے ساتھ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کو چند گھنٹوں میں انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔