راولپنڈی:

مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل کے قطر پر حملے اور فلسطینیوں پر ہونے جارحیت کی مذمت کرتےہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹنے کی صلاحیت ہے، جس طرح بھارت کو چند گھنٹوں میں لپیٹا تھا۔

 لیاقت باغ راولپنڈی میں تحفظ ختم نبوت اور دفاع پاکستان کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند مشکوک لوگ معاشرے میں اضطراب اور شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں، سپریم کورٹ میں ان عناصر کو شکست دی اور ان کی کمر توڑ دی ہے اور وہ دوبارہ اپنی کمر سیدھی نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے لیے کئی محاذ کھلے ہیں، اسرائیل کے وحشیانہ پن سے 70 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، بوڑھے، بچے، خواتین اور غیر مسلح افراد پر بم باری بزدلی ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل نے دوحا میں حماس کی قیادت پر فضائی حملہ کیا،  لبنان، شام اور یمن پر حملہ کر چکا ہے، یہ ملکوں کی خود مختاری پر حملہ ہے، حماس اور قطر کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب اسرائیل وجود میں آیا تو قراداد پاکستان میں لکھا گیا کی فلسطینیوں کی بستیوں پر یہودیوں کی بستیاں ناقابل قابل قبول ہے اور یہ قائد اعظم کا اعلان تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل وجود میں آیا ان کی خارجہ پالیسی کے مطابق مسلم امہ کا وجود ختم ہوگا، امت مسلمہ کو احساس ہو اسلامی دنیا کے حکمرانوں کا اجلاس دوحا میں بلا رہے ہیں، اللہ کرے امت مسلمہ کے حکمرانوں کا ضمیر جاگے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی خواہش ہے اسلامی وجود اور بلاک ہو، بیت المقدس کی آزادی کے لیے مشترکہ دفاعی قوت استعمال کریں، پاکستان کی صلاحیت ہے وہ اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹ سکے، جس طرح پاکستان نے بھارت کو چند گھنٹوں میں لپیٹا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹرمپ کہتا ہے اسرائیل بات نہیں مان رہا اور پھر حملہ ہو جاتا ہے، الزام کس کو دیں پہلے حماس قیادت اکٹھی کی پھر حملہ کروا دیا، اسرائیل گریٹر اسرائیل کی بات کرتا ہے، وہ حرمین شریفین پر اسرائیل کی توسیع اور قبضے کی بات کرتا ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ دو ریاستی نظریہ نہیں بلکہ ایک فلسطین کا نظریہ ہے۔

انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلیاں نہ کیا کرو، نتیجے تبدیل نہ کیا کرو۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیلاب کی تباہی ہے، لوگ بے گھر اور شہید ہو چکے ہیں، ہمیں ان مظلوموں کی طرف دیکھنا چاہیے، ہمارے بچے اور مائیں ہیں جو کرب سے زندگی گزر رہے ہیں، سب مظلوموں کی مدد کریں اور جو مدد کررہے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سفاکیت کے خلاف پیغام دینا ہوگا اور قوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہے، یہاں سے سیلاب زدگان کے لیے پیغام دینا ہوگا کہ ان کے ساتھ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کو چند گھنٹوں میں انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی