ہر بات بتانے کی تھوڑی ہوتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
چھ خلیجی ریاستوں ( بحرین ، کویت ، اومان ، امارات ، سعودی عرب ، قطر ) پر مشتمل خلیج تعاون کونسل کا قیام انیس سو اکیاسی میں ایک ایسے وقت عمل میں آیا جب شاہ ایران کے زوال کے سبب ہمسائیہ عرب ریاستوں میں احساسِ عدم تحفظ عروج پر تھا۔ستمبر انیس سو بیاسی میں صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا۔تمام ہمسائیوں نے صدام حسین کا دامے درمے ساتھ دیا اور ممکنہ جنگی پھیلاؤ سے خود کو بچانے کے لیے خلیج تعاون کونسل نے مشترکہ شیلڈ فورس بنائی۔
عراق ایران جنگ تو انیس سو اٹھاسی میں تھم گئی مگر صدام حسین اپنے عرب محسنوں سے خود کو منوانے کے خبط میں اگست انیس سو نوے میں کویت پر ہی چڑھ دوڑے جس نے جنگ میں صدام حسین کی سب سے زیادہ مالی معاونت کی تھی۔چنانچہ خلیجی ممالک کو اپنے ہی درمیان سے ابھرنے والے خطرے کے سدِباب کے لیے امریکا سے رجوع کرنا پڑا۔خلیجی امریکی اتحاد نے عراق سے کویت چھڑوا لیا اور صدام حسین کے ستارے گردش میں آ گئے۔
امریکا کے پانچویں بحری بیڑے نے انیس سو پچانوے میں بحرین کو ہیڈکوارٹر بنا لیا۔ جنوری دو ہزار ایک میں خلیج تعاون کونسل کے مابین مشترکہ دفاع کا معاہدہ ہوا۔اس میں عہد کیا گیا کہ کسی ایک رکن ممالک پر کوئی بیرونی حملہ پوری کونسل پر حملہ تصور کیا جائے گا اور مشترکہ جواب دیا جائے گا۔
دو ہزار دو میں امریکا نے سینٹرل کمان کا علاقائی ہیڈ کوارٹر سعودی عرب کے پرنس سلطان ایر بیس سے قطر منتقل کر دیا اور العدید مشرقِ وسطی میں سب سے بڑا امریکی ایر بیس بن گیا جہاں بیک وقت دس ہزار فوجیوں کی رہائش کا بھی انتظام تھا۔
ستمبر دو ہزار بیس میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے معاہدہِ براہیمی کر لیا۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس میں شامل ہو گئے۔قطر اگرچہ معاہدہ براہیمی کا حصہ نہیں تھا۔مگر پی ایل او اور حماس سے بیک وقت اچھے تعلقات تھے اور اسرائیل سے بھی رسمی علیک سلیک تھی۔چنانچہ فلسطینی اتھارٹی ، حماس اور اسرائیل کے مابین مصر کے ساتھ مل کر قطر کو مصالحتی پل بننے کی سہولت مل گئی۔
جب دو ہزار سات میں حماس نے غزہ میں انتخابات جیت کر اپنی حکومت قائم کی اور پی ایل او کو غزہ سے نکال باہر کیا تو اسرائیل نے اگرچہ غزہ کی ناکہ بندی کردی مگر اس کی رضامندی سے قطر غزہ کی حماس انتظامیہ کی مالی و تعمیراتی مدد کرتا رہا۔
دو ہزار بارہ میں امریکا کی خواہش پر قطر نے حماس کو دوہا میں سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت دی۔تاکہ امریکا کا حماس سے حسبِ ضرورت غیر رسمی رابطہ کر سکے۔قطر نے حماس کے سیاسی رہنما خالد مشعال ، اسماعیل حانیہ اور خلیل الحیاہ تک سب کی میزبانی کی۔اس وقت بھی وہاں حماس کی سیاسی قیادت کے علاوہ تنظیم کے ایک ہزار کے لگ بھگ دیگر ارکان یا ان کے اہلِ خانہ رہائش پذیر ہیں۔
سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو جنوبی اسرائیل پر حماس اور اسلامک جہاد کے مشترکہ حملے کے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور دو بار عارضی جنگ بندی میں قطر نے کلیدی کردار نبھایا اور گزشتہ ہفتے تک وہ تمام فریقوں کو ثالثی کی بھرپور سہولت فراہم کر رہا تھا۔
اسرائیل نے خالد مشعال کو انیس سو ستانوے میں اردن کے دارالحکومت عمان میں ہلاک کرنے کی ناکام کوشش کی۔گزشتہ برس اسماعیل حانیہ کو تہران میں حملہ کر کے شہید کیا۔مگر کسی کو امید نہ تھی کہ امریکا کا قریبی علاقائی اتحادی ہونے کے ناتے قطر کو اسرائیل براہِ راست نشانہ بنائے گا اور وہ بھی ایسے وقت جب حماس کی قیادت امریکا کی پیش کردہ تازہ امن تجاویز پر ہی غور کر رہی تھی۔
اسرائیل کی اگر کوئی جنگی یا انسانی اخلاقیات ہیں تو ان کا باقی دنیا کی اخلاقیات سے کوئی لینا دینا نہیں۔قطر پر نو ستمبر کو ہونے والا حملہ اچانک نہیں ہوا۔داخلی سلامتی کے اسرائیلی ادارے شن بیت کے ایک اہلکار کے مطابق اس کی تیاری ایران سے جنگ بندی کے بعد سے جاری تھی۔
یہ بات بھی ناقابلِ یقین ہے کہ امریکا کو اس کارروائی کے بارے میں پیشگی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔فرض کریں ایسا ہی ہوا ہو تو پھر بھی یہ بات عجیب لگتی ہے کہ قطر میں نصب امریکی فضائیہ کا ریڈار سسٹم جو ایرانی میزائیلوں کا اڑنے سے پہلے پتہ چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسے وہ پندرہ اسرائیلی طیارے دکھائی نہ دیے جو دو ہزار کیلومیٹر کی اڑان بھرتے ہوئے اردن ، شمالی شام اور عراق یا پھر اردن اور سعودی عرب عبور کرتے ہوئے قطر کی فضائی حدود میں بغیر کسی کی نگاہ میں آئے اپنا مشن مکمل کر کے بحفاظت چلے گئے۔
امریکا کا دعوی ہے کہ اسرائیل نے ازخود کارروائی کی اور اسے تب اطلاع دی جب اسرائیلی طیارے فضا میں تھے۔اگر صدر ٹرمپ کو آخری وقت میں ہی خبر ملی تب بھی ان کے پاس کم ازکم ڈیڑھ گھنٹے کی مہلت تھی جس میں وہ نیتن یاہو سے رابطہ کر کے ایک ایسی ریاست کے خلاف فضول مہم جوئی سے باز رکھ سکتے تھے جس نے ساڑھے تین ماہ قبل ہی صدر ٹرمپ کا والہانہ خیرمقدم کیا تھا اور انھیں تحفے میں طیارہ بھی پیش کیا تھا۔مگر ٹرمپ نے تعلق کا لحاظ نبھانے کے بجائے امیرِ قطر کو اس لمحے ’’ پیشگی ‘‘ خبردار کیا جب اسرائیلی طیارے حماس کے دفتر پر میزائیل داغ رہے تھے۔
یہ مشن مکمل ہونے کے کئی گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کے اس اقدام پر ’’ ناپسندیدگی ‘‘ کا اظہار کیا۔اور جھینپ مٹانے کے لیے صدر ٹرمپ نے امیرِ قطر کو فون پر یقین دلایا کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا ۔مگر نیتن یاہو نے ٹرمپ کی اس یقین دہانی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے کہا کہ اگر قطر نے حماس کو نہ نکالا توضرورت پڑنے پر دوبارہ کارروائی ہو سکتی ہے۔
اسرائیل کا امریکا پر اس قدر دبدبہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر پر حملے کے خلاف جو متفقہ مذمتی قرار داد منظور کی اس کی امریکا نے اس شرط پر حمائیت کی کہ اسرائیل کا نام نہیں لیا جائے گا۔
اسرائیل اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے روائیتی طور پر موساد ایجنٹوں سے کام لیتا ہے اور عموماً ایسی وارداتوں کا اقبال نہیں کرتا۔مگر آج حوصلے اتنے بلند ہیں کہ موساد کو استعمال کرنے کے بجائے دن کی روشنی میں اسرائیلی فضائیہ نے حماس کی قیادت کو اڑانے کی کوشش کی اور حملے کے چند منٹ بعد ہی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے دھڑلے سے اس واردات کی ذمے داری بھی قبول کی۔
صدر ٹرمپ کی ’’ ناخوشی ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ ہم ہمیشہ امریکا کے مفاد کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور نہ ہی امریکا کو ہر بار پیشگی بتانے کے پابند ہیں۔واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یخائل لیاتر نے کہا کہ اسرائیل حماس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے جہاں چاہے جب چاہے کارروائی کرے گا۔اس بار اگر وہ بچ نکلے ہیں تو آیندہ نہیں بچ پائیں گے۔
یورپ نے بھی اس واردات پر روائیتی منافقت کا پرچم بلند رکھا۔برطانوی وزیرِ اعظم کئیر اسٹارمر نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اسرائیلی کارروائی کی سخت مذمت کی۔امیرِ قطر سے فون پر بات کی اور پھر سرکاری رہائش گاہ پر اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ کا استقبال بھی کیا۔جرمنی نے اس حملے پر ’’ افسوس ‘‘ ظاہر کیا مگر یہ وضاحت بھی کر دی کہ جرمنی اسرائیل سے اپنی دیرینہ ساجھے داری کم نہیں کرے گا۔نریندر مودی نے ایک دن بعد ’’ برادر قطر ‘‘ سے اظہارِ ہمدردی کیا جب کہ حملے سے دو روز پہلے اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلل سموترخ نئی دلی میں باہمی تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کر رہے تھے۔
خلیج تعاون کونسل کے ارکان نے اظہارِ یکجہتی کے لیے فرداً فرداً دوہا کا دورہ کیا ہے۔اس موقع پر کونسل کے کسی رکن نے بھی دو ہزار ایک کے مشترکہ دفاعی سمجھوتے کا حوالہ نہیں دیا۔
یاد آیا کہ دو ہزار دس میں موساد کے آٹھ سے دس ایجنٹ جعلی یورپی پاسپورٹوں پر دوبئی میں اترے اور ایک ہوٹل میں مقیم حماس کے عہدیدار محمود المبوخ کو ہلاک کر کے بحفاظت چمپت ہو گئے۔اس بابت متاثرہ ملک نے کیا قانونی چارہ جوئی کی ؟ شاید کی ہو۔ہر بات بتانے کی تھوڑا ہوتی ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خلیج تعاون کونسل میں اسرائیلی کی اور کے لیے قطر کو
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔