ترک ہیکرز کی جانب سے ویڈیو کال نے اسرائیلی وزیر دفاع کا مذاق بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
ترک ہیکرز کی جانب سے ویڈیو کال نے اسرائیلی وزیر دفاع کا مذاق بنا دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 September, 2025 سب نیوز
یروشلم(سب نیوز )اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز اپنے ذاتی فون نمبر کے لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مذاق اور شدید تنقید کا نشانہ بن گئے۔ترک ہیکرز نے اسرائیل کاٹز کا ذاتی نمبر حاصل کر کے انہیں ویڈیو کال کی اور بعد ازاں کال کا اسکرین شاٹ ان کے نمبر سمیت آن لائن پوسٹ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کاٹز نے کال ریسیو کی تو دوسری جانب سے انہیں گالیاں دی گئیں جس کے بعد انہوں نے فون کاٹ دیا تاہم ویڈیو کال کا یہ اسکرین شاٹ تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی وزیردفاع کو پیغامات بھیجنے شروع کر دیے۔
سیاسی تجزیہ کار اور کمیونیکیشن اسٹریٹیجسٹ کلاوس یورجنس نے ترک میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک اعلی سکیورٹی عہدیدار کا نمبر لیک ہونا اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے خیال کو کمزور کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سمجھتا تھا کہ اس کے سکیورٹی پروٹوکول مضبوط ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے، اس کے ناقابل تسخیر ہونے کی شبیہ ختم ہو گئی ہے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد اسرائیل ممکنہ طور پر اینٹی ہیکنگ ٹیکنالوجی کو مزید سخت کرے گا اور اندرونی سکیورٹی خطرات پر نظرثانی کرے گا۔
اسرائیل کاٹز نے بعد ازاں ایکس پر اعتراف کیا کہ ان کا فون دنیا بھر سے نفرت انگیز پیغامات اور دھمکیوں سے بھر گیا ہے، انہوں نے لکھا کہ وہ مجھے کال کریں گے اور دھمکیاں دیں گے اور میں ان کے دہشت گرد رہنماں کو ختم کرنے کے احکامات دیتا رہوں گا۔تاہم ان کی اس پوسٹ پر مزید طنزیہ تبصرے ہونے لگے، ایک صارف نے لکھاکہ تم بزدل اب تک صرف ہزاروں معصوم بچوں، غیر مسلح امدادی کارکنوں، طبی عملے اور صحافیوں کو ہی مار سکے ہو کیونکہ وہ پلٹ کر لڑ نہیں سکتے۔خود اسرائیلی شہریوں نے بھی اپنے وزیردفاع کا مذاق اڑایا، ایک صارف نے لکھا کہاگر ہمارا وزیردفاع ترک ہیکرز کے لنکس پر کلک کرتا ہے تو ہم واقعی بے بس ہیں۔
ایک اور نے کہا کہ ہم اتنے ناکام ملک ہیں کہ ہمارے وزیردفاع کو ترک ہیکرز کی نامعلوم کال آتی ہے اور وہ واقعی جواب بھی دیتے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق واقعے کے بعد کاٹز کو اپنا وہ فون نمبر غیر فعال کرنا پڑا جو وہ برسوں سے استعمال کر رہے تھے۔ مسلسل مزاحیہ کالز اور نفرت انگیز پیغامات نے انہیں شرمندگی سے دوچار کر دیا اور وہ سوشل میڈیا پر مذاق بن کر رہ گئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ،پاکستان کا عمان کو جیت کیلئے 161رنز کا ہدف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے2ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ٹرمپ کے مقتول ساتھی چارلی کرک کے مبینہ قاتل کو گرفتار کرلیا گیا، امریکی صدر کی تصدیق طالبان مخالفین سے ملاقاتوں کا الزام، افغان حکومت نے سینیئر بھارتی سفارتکار کو ملک بدر کردیا بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں اپنے ہی شہریوں کو بھون ڈالا، 10ہلاک ٹرمپ کا امن انعام حاصل کرنے کا دبا وکسی صورت فیصلہ سازی پر اثرانداز نہیں ہوگا، نوبل کمیٹی اسرائیل کا قطر میں حماس رہنماں پر حملہ، امارات نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے اسرائیلی ترک ہیکرز ویڈیو کال
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔