مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں اور غیر سنجیدہ اقدامات نے بھارتی معیشت کو شدید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہٹ دھرمی اور امریکی ٹیرف کے باعث بھارت کی اہم صنعتیں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا الجزیرہ کے مطابق امریکا کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف نے بھارت کی قالین صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر بھدوہی کے قالین برآمد کنندگان کا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں امریکا کو کوئی بھی کارگو نہیں بھیجا گیا۔

بھارت میں قالین کے کاروبار سے وابستہ افراد بدترین حالات کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کئی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے 50 سالہ کیریئر کا سب سے مشکل وقت ہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو یہ صنعت مکمل طور پر زوال پذیر ہو جائے گی کیونکہ بھارتی قالین صنعت کا انحصار مکمل طور پر امریکا پر ہے اور گھریلو مارکیٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

صنعت کاروں نے شکایت کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی امید تھی لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت امریکی ٹیرف نے ان کے کاروبار کو تقریباً بند کر دیا ہے۔ کئی فیکٹری مالکان نے ملازمین کے کام کا دورانیہ کم کر دیا ہے اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو ہزاروں افراد کو ملازمتوں سے فارغ کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارتی صنعت کاروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ترکیہ اور پاکستان کم ٹیکس کی وجہ سے امریکی منڈی میں بھارتی قالین کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے مودی حکومت کے خود انحصاری کے تمام دعوؤں کی حقیقت کھول دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں بھارت کی بڑھتی ہوئی تنہائی دراصل مودی سرکار کی ناکام اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: صنعت کا

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم