وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی بلوں کی وصولی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر عوامی ریلیف کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی بلوں کی وصولی سے روک دیا۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بِلوں کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین نے اپنے لیے کاروبار کے نئے راستے تلاش کرلیے
وزیراعظم نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو سیلاب زدہ علاقوں میں صارفین سے اگست 2025 کے بجلی کے بلوں کی وصولی سے فوری طور پر روک دیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پانے کے بعد متاثرہ علاقوں کے لیے بجلی کے بلوں کے حوالے سے تفصیلی پیکج کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ جن سیلاب متاثرہ صارفین سے اگست 2025 کا بجلی کا بل وصول کیا جا چکا ہے وہ آئندہ ماہ ایڈجسٹ کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ سیلاب نے پورے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے، مشکل کے اس وقت میں عوام کے دکھوں پر مرہم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ایئر لفٹ ڈرونز سے ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری
انہوں نے کہاکہ متاثرین کے ریسکیو و بحالی کے لیے وفاقی و صوبائی ادارے اپنی تمام تر کوششیں کررہے ہیں اور جب تک سیلاب متاثرین اپنے گھروں میں واپس نہیں چلے جاتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی بلوں کی وصولی ریلیف سیلاب متاثرین شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی بلوں کی وصولی ریلیف سیلاب متاثرین شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز سیلاب متاثرین بلوں کی وصولی علاقوں میں کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز