Express News:
2026-06-03@05:43:58 GMT
کراچی: فائرنگ کے دو مختلف واقعات، بچے سمیت دو افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں سات سالہ بچی سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
پہلا واقعہ اورنگی ٹاؤن مخدوم کالونی میں پیش آیا، جہاں گھر کے اندر موجود سات سالہ حوریان نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہو گئی۔
پولیس کے مطابق بچی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور واقعے کی نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب لانڈھی مرتضیٰ اسماعیل گوٹھ کے قریب فائرنگ سے ایک شخص یاسر ولد محمد ظفر زخمی ہو گیا۔
ایدھی ذرائع کے مطابق زخمی کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔