کم عمری میں گھریلو ملازم نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا، عینی جعفری
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
اداکارہ و ماڈل عینی جعفری نے اپنے بچپن کا تلخ تجربہ شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ کم عمری میں گھریلو ملازم کی جانب سے جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی تھیں۔
انسٹاگرام پر جاری پوڈکاسٹ ویڈیو میں عینی جعفری نے بتایا کہ جب وہ محض پانچ برس کی تھیں تو دادا دادی کے گھر باورچی نے لالی پاپ دینے کے بہانے انہیں سرونٹ کوارٹر بلایا اور وہاں نامناسب رویہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ کم عمری کے باعث وہ فوراً ساتھ چلی گئی تھیں مگر واقعے کے بعد گھبرانے کے بجائے سیدھا والدہ کے پاس جا کر سب کچھ بتا دیا۔
عینی جعفری کا کہنا تھا کہ وہ یہ واقعہ ہمدردی یا شہرت کے لیے نہیں بلکہ اس پیغام کے ساتھ بیان کر رہی ہیں کہ ایسے واقعات اکثر بچوں کے ساتھ پیش آتے ہیں لیکن زیادہ تر بچے خوف کی وجہ سے والدین کو کچھ نہیں بتاتے۔ اصل میں ڈرنا اس شخص کو چاہیے جو یہ قبیح عمل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسے واقعات کے پیچھے مانوس یا قریبی رشتہ دار بھی ملوث ہوسکتے ہیں، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو یہ تربیت دیں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ کسی غیر مناسب رویے کی صورت میں فوراً اشاروں یا الفاظ کے ذریعے مدد طلب کریں۔
عینی جعفری نے زور دیا کہ متاثرہ افراد کو خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ کھل کر بات کرنی چاہیے، اور اگر ضرورت محسوس ہو تو ماہرِ نفسیات یا تھراپی سے مدد لینے میں بھی جھجک نہیں ہونی چاہیے۔
https://www.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 12 خوارج ہلاک، 15 اہلکار و سرکاری ملازم شہید
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ 23 اور 24 جولائی 2026 کی درمیانی شب ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن، 24 خوارج ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز کی مستعد اور دلیرانہ کارروائی کے نتیجے میں ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے گئے۔ جوابی کارروائی کے دوران فرار ہونے والے 12 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں ہونے والے شدید دھماکے سے چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوئے جن میں 12 فوجی جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری ملازم شامل ہیں۔
بیان کے مطابق شہدا نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عظیم قربانی دی۔
مزید پڑھیے: بلوچستان: آپریشن شعبان جاری، مزید 9 خوارج ہلاک، مجموعی تعداد 88 ہوگئی
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ موجود کسی بھی دہشتگرد کو ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت عزم استحکام کے وژن کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان دشمن گٹھ جوڑ بے نقاب، فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے روابط کے شواہد سامنے آگئے
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹانک ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ٹانک میں خوارج ہلاک ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی خیبرپختونخوا