کراچی میں 12 ارب روپے کی لاگت سے بننے والی نئی حب کینال میں ناقص میٹریل کے استعمال کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: کراچی کو پانی فراہم کرنے والی نئی حب کینال کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق کراچی میں گزشتہ دنوں ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلے سے ایک ماہ قبل 12 ارب روپے کی لاگت سے بننے والی نئی حب کینال کو شدید نقصان پہنچا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ سیلابی ریلے نے 20 کلو میٹر طویل حب کینال کو متاثر کیا اور کینال کی تعمیر میں مضبوط سریا استعمال کیا جاتا تو سیلابی ریلے میں نہ بہتی۔
یاد رہے کہ چند ماہ قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر سکندر زرداری نے کہا تھا کہ کراچی کوپانی فراہم کرنے والی نیو حب کینال کا تعمیراتی کام مکمل کرلیا گیا ہے اور اس کا ٹیسٹ رن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی کینال کے لیے پرانی لائن سے پانی چھوڑنا تکنیکی عمل تھا، حب کینال کا ٹیسٹ 25 دن قبل کیا گیا تھا، پرانی کینال سے پانی لینے کے لیے کٹ لگایا گیا تھا۔جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ سوشل میڈیا پر منصوبے کی ناکامی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حب کینال
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔