وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات، قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر شیخ تمیم بن حماد کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورت حال کے پیش نظر قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق امیر قطر سے ملاقات میں وزیراعظم نے دوحہ میں رہائشی علاقے پر اسرائیلی حملے کی سختی سے مذمت کی ، جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا، قطر کے گزشتہ ہفتہ کے دورے کا حوالہ بھی دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیلی حملہ قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان ہر مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے، قطر پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
بڑے بھائی احمد کے ساتھ آخری ویڈیو وائرل، عمر نے کیا فرمائش کی تھی؟
وزیراعظم نے ایک بار پھر پاکستان اور قطر کے تعلقات کو تاریخی اور پائیدار قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں اسرائیلی جارحیت فوری طور پر روکنا ہوگی، اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں امت میں اتحاد ہونا انتہائی ضروری ہے، عرب اسلامی ممالک کے ہنگامی سربراہی اجلاس کو سراہتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطی کی بگڑتی صورتحال کے تناظر میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی قطر کی درخواست کی حمایت کرتا ہے۔
کم عمر بچوں کے فیس بک اور ٹک ٹاک استعمال پر پابندی کی درخواست پر جواب طلب
اس موقع پر امیر قطر نے سربراہ کانفرنس میں شرکت پر وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کی اور بارہ ستمبر کو دوحہ آنے اور قطر سے اظہار یکجہتی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں پاکستان کی طرف سے وزیر دفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور مشیر طارق فاطمی بھی شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عرب اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ہمارے برادر ملک قطر کی خود مختاری ، سلامتی کی خلاف ورزی کی، انسانیت کیخلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا، پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا ہری پور میں نیا 'کے پی ہاؤس' بنانے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے،انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا، ہم اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کے حامی ہیں، غزہ میں شہری آبادی کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ کے صدر رجب طیب، مصر کے صدر عبدالفتح السیسی ، شاہ اردن عبداللہ دوئم بن الحسین، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہوئی جن میں اسرائیلی حملوں، فلسطین کی صورتحال اور دوطرفہ تعقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مون سون کے 11 ویں سپیل کا آج سے آغاز، شدید بارشوں کی پیشگوئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف پر اسرائیل نے کہا کہ قطر کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔