ایشیا کپ سپر 4 دوڑ: افغانستان کی سری لنکا کے خلاف اہم میچ میں بیٹنگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی 2025 کے ایک اہم اور فیصلہ کن معرکے میں افغانستان نے سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ میچ گروپ بی کے مرحلے کا آخری مقابلہ ہے، جو ابوظبی میں جاری ہے۔
افغانستان کے کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کو ترجیح دی کیونکہ یہ میچ ان کی ٹیم کے لیے ناک آؤٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر افغانستان آج کا میچ ہار جاتا ہے تو وہ ایونٹ سے باہر ہو جائے گا جبکہ جیت کی صورت میں وہ سپر فور مرحلے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
گروپ بی میں اس وقت سری لنکا 2 فتوحات کے ساتھ 4 پوائنٹس لے کر سرفہرست ہے جب کہ افغانستان 2 میچز میں ایک جیت اور ایک ہار کے ساتھ 2 پوائنٹس پر ہے۔
افغانستان نے اپنا پہلا میچ ہانگ کانگ کے خلاف جیتا تھا جبکہ دوسرے میچ میں اسے بنگلہ دیش سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
دوسری جانب گروپ اے سے پاکستان اور بھارت پہلے ہی سپر فور میں کوالیفائی کر چکے ہیں۔ بھارت کل گروپ مرحلے کا اپنا آخری میچ اومان کے خلاف کھیلے گا۔
آج کے میچ کا نتیجہ گروپ بی کی صورت حال کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ سری لنکا کی کامیابی کی صورت میں سری لنکا اور بنگلہ دیش دونوں سپر فور میں جگہ بنالیں گے جبکہ افغانستان کا سفر ختم ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان ایشیا کپ 2025 سری لنکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان ایشیا کپ 2025 سری لنکا سری لنکا کے خلاف
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔