پاک سعودہ باہمی دفاعی معاہدہ 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد سب سے بڑی پیشرفت ہے‘ مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2025ء)سینئر سیاستدان سید مشاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی دفاعی معاہدہ 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد اسلامی دنیا کی سب سے بڑی پیشرفت ہے،پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں تو دونوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
(جاری ہے)
ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ بھی پاکستان سے اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے اور پاکستان اس وقت دنیا میں ایک منفرد پوزیشن کا حامل بھی ہے کیونکہ اس کی 5 بڑے دارلحکومتوں ریاض، تہران، بیجنگ، ماسکو اور واشنگٹن میں اہمیت، عزت اور اثر ورسوخ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی پاکستان کی امریکہ کے ساتھ قربت سے چین کے تعلقات متاثر ہوں گے کیونکہ ہمارے ملک کے امریکہ اور چین سے مختلف نوعیت کے تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ایک دائمی تزویراتی رشتہ ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔مشاہد حسین نے کہا کہ کشمیری عوام جدوجہد آزادی پر داد کے مستحق ہیں اور کشمیر اور فلسطین دونوں اقوام متحدہ کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ