نئی دہلی(شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اداکار نہیں بلکہ فلم ساز بننا چاہتے تھے۔

شاہ رخ خان نے ایک حالیہ گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ ابتدا میں اداکار بننے کے خواہش مند نہیں تھے بلکہ ان کا اصل شوق فلم سازی تھا۔ شاہ رخ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ماس کمیونیکیشن اسی لیے کیا تاکہ ہدایتکاری سیکھ سکیں، لیکن قسمت انہیں اداکاری کے میدان میں لے آئی، جہاں وہ آہستہ آہستہ انڈسٹری کے صفِ اول کے اداکار بن گئے۔

شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے آریان خان سے متعلق بھی گفتگو کی اور بتایا کہ آریان نے بھی ان کی طرح اداکاری کے بجائے فلم میکنگ کو ترجیح دی ہے اس ہی لئے وہ کسی فلم میں بطور اداکار شامل نہیں ہورہے۔

یاد رہے کہ آریان نے حال ہی میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’دی بیڈز آف بالی ووڈ‘ کے ذریعے بطور ہدایتکار انڈسٹری میں ڈیبیو کیا ہے، جس میں لکشا، بوبی دیول، راگھو، سحر بمبا، منوج پاہوا، مونا سنگھ اور رجت بیدی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔

شاہ رخ کا کہنا تھا کہ آریان بھی بچپن سے ہی فلم سازی میں دلچسپی رکھتا ہے اور وہ خود ہی سب سیکھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے بچوں پر کسی بھی شعبے کا انتخاب کرنے کے لیے کبھی دباؤ نہیں ڈالتے اور انہیں مرضی سے زندگی میں آگے بڑھنے کی اجازت دیتے ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شاہ رخ

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو