میرواعظ عمر فاروق لگاتار دوسرے جمعہ بھی خانہ نظربند، نماز جمعہ کی اجازت بھی نہیں ملی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
مولوی عمر فاروق نے اس امر پر شدید افسوس ظاہر کیا کہ انہیں مسلسل ہفتہ بھر ہفتہ گھر پر نظربند رکھا جارہا ہے، جامع مسجد جیسی مرکزی عبادتگاہ میں جانے سے روکا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزادی پسند تنظیم کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین اور میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو آج ایک مرتبہ پھر خانہ نظربند رکھا گیا اور جامع مسجد سرینگر میں جمعہ کا خطبہ دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپنے ایک ویڈیو بیان میں میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ آج دوسرے جمعہ بھی مجھے گھر پر نظربند رکھا گیا اور جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ یہ دل دہلا دینے والا اور اشتعال انگیز ہے کہ حکام میرے بنیادی مذہبی حقوق کو اپنی مرضی سے پامال کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جب چاہے ہمارے مذہبی، دینی اور شہری آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمعہ میرے لئے اور بھی اہم تھا کیونکہ اس ہفتے پروفیسر عبدالغنی بٹ، جو کہ میرے دیرینہ ساتھی رہے ہیں ہم سے جدا ہو گئے، مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ نہ صرف ہمیں ان کے جنازے پر شریک ہونے سے روکا گیا بلکہ مرحوم کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا بھی موقع نہیں دیا جا رہا ہے۔
میرواعظ نے حریت کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی کا تذکرہ کرتے ہوئے ویڈیو بیان میں کہا کہ آج ہم ان کی مغفرت کے لئے کم از کم دعا کرتے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ حکومت اتنی خوف زدہ ہے کہ ہم اپنے مرحوم رہنماؤں اور قائدین کو الوداع بھی نہیں کہہ سکتے، ان کے لئے دعا بھی نہیں کر سکتے۔ مولوی عمر فاروق نے اس امر پر شدید افسوس ظاہر کیا کہ انہیں مسلسل ہفتہ بھر ہفتہ گھر پر نظر بند رکھا جا رہا ہے، جامع مسجد جیسی مرکزی عبادت گاہ میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ نماز جمعہ اور وعظ وتبلیغ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس سے یہ صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ ہمیں آمرانہ نظام میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، یہ نہ صرف ناانصافی اور ظلم ہے بلکہ یہ امر قابل مذمت بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر فاروق جا رہا ہے کہا کہ
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :