اسلام آباد، پروفیسر عبدالغنی بٹ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250920-08-4
اسلام آباد(آن لائن) آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بٹ کی غائبانہ نمازِ جنازہ اسلام آباد میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر، حریت قیادت، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔شرکاء میںوزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق، عبداللہ گل، فاروق رحمانی، محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم، میر طاہر مسعود، محمد الطاف بٹ سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔مقررین نے کہا کہ پروفیسر عبدالغنی بٹ نے تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے لازوال قربانیاں دیں، ان کی خدمات کو تاریخ میں سنہری الفاظ سے یاد رکھا جائے گا۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر عبدالغنی بٹ ایک عظیم حریت رہنما تھے، جن کی جدوجہد اور خدمات ہمیشہ کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پروفیسر عبدالغنی بٹ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔