پاک سعودی دفاعی معاہدے کا جشن 23 ستمبر تک جاری رہے گا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اورسعودیہ کے مابین تاریخی معاہدے کا جشن منانے کیلئے شروع کیاگیا چراغاں 23 ستمبر تک جاری رکھنے کی ہدایت کردی گئی، وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں جاری چراغاں کو سعودی عرب کے قومی دن 23 ستمبر تک جاری رکھاجائے۔
سرکاری ونجی عمارتوں کو سعودی عرب کے پرچم کے رنگ کی سبز روشنیوں سے مزین کیاگیاہے۔ ریڈ زون سمیت شہر کی مختلف شاہراہوں پر سعودی بادشاہ ،ولی عہد ،وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر کی تصویروں پر مبنی قدآدم ہورڈنگ لگائے گئے ہیں، پاکستان اورسعودی عرب کے پرچم بھی بڑی تعدادمیں شاہراہوں اور عمارتوں پر لہرائے گئے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب میں شاندار استقبال اور اس کے بعد دونوں ممالک کے مابین معاہدے کو لے کر پاکستانی شہری انتہائی خوش دکھائی دے رہے ہیں۔
ایکسپریس نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں نے کہا سعودی عرب کی حفاظت ہمارے لئے باعث سعادت ہے ، ہمیں کوئی دنیاوی فائدہ نہ بھی ملے تب بھی پاک سرزمین کی حفاظت کی خاطر ہم اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں گے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ جس طرح اسرائیل ایک ایک کر کے مسلمان ممالک پر چڑھائی کر رہا ہے اگر مسلمان ملکوں کا بلاک بن جائے تو اسرائیل سمیت کسی ملک کو بھی ایسی کارروائی کی جرأت نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔