سعودی عرب سے باہمی مفادات کا خیال رکھنے کی توقع ہے، بھارت کا پاک سعودی معاہدے پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
بھارت نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب سے توقع رکھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کے باوجود ریاض نئی دہلی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری میں ‘باہمی مفادات اور حساسیتوں’ کو مدنظر رکھے گا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ‘بھارت اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری وسیع اور گہری ہے جو گزشتہ چند برسوں میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ہماری توقع ہے کہ یہ شراکت داری باہمی مفادات اور حساسیتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان سعودی عرب معاہدہ کیا کچھ بدل سکتا ہے؟
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان اور سعودی عرب نے بدھ کو باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔ دونوں ممالک اسے ایک تاریخ ساز معاہدے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت کے متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ بھی وسیع تعلقات ہیں۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بات چیت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کی مشکلات میں اضافہ، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے نے پاکستان کو کتنا مضبوط بنادیا؟
پاکستان-سعودی عرب کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیا دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کو بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو ابتدائی ردعمل میں کہا تھا کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ اور جامع قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
pak saudi agreement انڈیا بھارت پاک سعودی معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بھارت پاک سعودی معاہدہ کے ساتھ میں کہا
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔