پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا(کل)بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ پر کسی قسم کی تقریب یا کیک نہ کاٹنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد/ مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2025ء)پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے (کل)اتوارکو بلاول بھٹو زرداری کی 37ویں سالگرہ کے موقع پر کسی قسم کی تقریب یا کیک نہ کاٹنے کا اعلان کر دیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو کی 37ویں سالگرہ کے موقع پر کسی قسم کا کوئی جشن،تہنیتی تقریب منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین، سپیکر چوہدری لطیف اکبر، سیکرٹری جنرل راجہ فیصل راٹھور نے پارٹی اور اسکی ذیلی تنظیموں کو پارٹی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دئیے۔
گزشتہ روز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ٹکٹ ہولڈر حلقہ سات لیپہ ویلی شوکت جاوید میر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیلابی صورت حال سے دوچار ہے اور عوام مشکلات و مصائب میں گھرے ہوئے ہیں، ایسے حالات میں خوشی منانے کے بجائے متاثرہ بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔(جاری ہے)
پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان پہلے ہی ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی مدد میں سرگرم عمل ہیں، اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے دن کو بھی خدمتِ خلق اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے وقف کیا جائے گامزید برآں، پاکستان پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 21 ستمبر 2025 کو خوشی منانے کے بجائے پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان ملک بھر میں اپنی مدد آپ کے تحت عطیات جمع کریں گے، اور یہ براہِ راست سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ان تک پہنچائے جائیں گے۔
مذید۔ براں پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن سپیکر چوہدری لطیف اکبر سمیت پارٹی قیادت نے اجتماعی و انفرادی حثیت سے پارٹی عہدیداروں کارکنوں کو سیلاب زدگان کی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اسلامی، انسانی جذبوں کو فروغ دینے کی بھی ھدایت کی اور کہا کہ جس طرح اہل پاکستان نے سانحہ زلزلہ 2005 کے قیامت خیز زلزلے کے نا مساعد ومشکل ترین حالات میں اہل کشمیر کیلئے ایثار و قربانی کی نئی تاریخ رقم کی تھی اسی طرح آزاد کشمیر و بیرون ممالک بسنے والے کشمیری بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے بہن بھائیوں کی امداد یقینی بنائیں شوکت جاوید میر نے کہا ادھر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی میزبانی میں معرکہ حق بنیان مرصوص کی خوشی اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان سے اظہار یکجھتی اور بھارت کی جانب سے دی جانے والی جارحیت کی مسلسل دھمکیوں کے خلاف صابر شھید سٹیڈیم میں ایک عظیم الشان جلسئہ عام ہو گا جس میں فتنہ الخوارج اور پاکستان سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے پر اظہار تشکر کیا جائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان پیپلز پیپلز پارٹی بلاول بھٹو پارٹی کے پارٹی ا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔