ٹرمپ کی مسلمان رکن الہان عمر پر کڑی تنقید‘ کانگریس سے نکالنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈیموکریٹک نمائندہ الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا مواخذہ کرکے کانگریس سے نکالنے کا مطالبہ کردیا۔ ٹرمپ نے ائر فورس ون میں موجود صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے بغیر کسی وجہ کے 2بار میرا مواخذہ کیا۔ صدرٹرمپ نے الہان عمرکی صومالی شناخت پر بھی تنقید کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کچھ نہ رکھنے والے ملک سے آتے ہیں اور ہمیں چلانا سکھاتے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر صومالیہ کو بدعنوان اور بدحال ملک قرار دیا۔ یاد رہے کہ ایوان نمائندگان نے چند روز قبل الہان عمر کیخلاف قرارداد مسترد کر دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔