متنازع ٹوئٹ کیس: اعظم سواتی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250921-08-12
اسلام آباد(آن لائن)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آبادنے پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی کو متنازع ٹویٹ کیس سے بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، فیصلہ 27 ستمبر کو سنایاجائے گا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آبادمیں سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف متنازعہ ٹویٹ کیس پرایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے سماعت کی ۔ اعظم سواتی کی بریت کی درخواستوں پر دلائل شروع کردیے گئے۔ وکیل سہیل سواتی نے موقف اختیار کیا کہ ٹوئٹر سے ویریفائے نہیں کیا گیا کہ یہ اکاؤنٹ اعظم سواتی کا ہے، سابق آرمی چیف اس کیس میں فریق نہیں ہیں۔ اعظم سواتی نے کہا کہ قرآن میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ تم سچی بات سے نہ ڈرو، جو بات آزادی اظہار رائے کے متعلق ہو وہ کبھی جرم میں نہیں ہو سکتی۔جو جو دفعات میرے اوپر لگائے گئے ہیں وہ آرگومنٹ میں نے عدالت میں جمع کروا دیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اعظم سواتی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔