اقوام متحدہ اجلاس میں ٹرمپ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوگی، وائٹ ہاؤس کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ترجمان وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات شیڈول ہونے کی تصدیق کردی۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے بائیں بازو کے گروپوں کے خلاف مزید اقدامات متوقع ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ جلد قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، ترکیے، پاکستان، اور اردن کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جبکہ اُن کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات طے ہے۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے بتایا کہ ٹرمپ یوکرین، ارجنٹینا اور یورپی یونین کے رہنماؤں سے بھی ملیں گے جبکہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ میں اہم تقریر کریں گے۔
وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ اس ہفتے ٹک ٹاک معاہدے پر دستخط کریں گے۔ولین لیویٹ نے کہا کہ مغربی ممالک کے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے سے صدر ٹرمپ متفق نہیں ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائن میں ملاقات ہوگی۔
دریں اثنا نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80 واں اجلاس شروع ہو گیا ہے۔
اس سے قبل دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف 22 سے 26 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور یہاں ٹرمپ سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ شہباز شریف سے ملاقات وائٹ ہاؤس کریں گے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔