Jasarat News:
2026-07-24@07:14:46 GMT

سکھر ،سوئٹ ہوم کے زیراہتمام سیرت النبی کانفرنس کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250923-2-14

سکھر (نمائندہ جسارت) جشن ولادت با سعادت آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیﷺکی نسبت سے پاکستان سوئٹ ہوم سکھر کے مقیم فرشتوں اور پریوں کے زیر اہتمام سوئٹ ہوم میں پروقار سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سوئٹ ہوم سکھر کے فرشتوں اور پریوں کے علاوہ مہمانانِ گرامی کمشنر سکھر ڈویژن عابد سلیم قریشی، معروف عالم دین مفتی محمد ابراہیم قادری، پروفیسر سکھر آئی بی اے یونیورسٹی غلام حسین منگنہار، اسسٹنٹ کمشنر سکھر سٹی ثوبیہ فلک راؤ اور ریسکیو 1122 کے کرنل غلام مصطفیٰ اوڈھو اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ پاکستان سوئٹ ہوم سکھر کے فرشتوں، پریوں اور منتظم سوئٹ ہوم و اسسٹنٹ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال سکھر شبیر میمن اور اساتذہ نے مہمانوں کو اس با سعادت موقع پر خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کمشنر سکھر ڈویڑن عابد سلیم قریشی نے کہا کہ آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے سجائی گئی محفل میں شرکت میرے لیے باعث سعادت ہے، انہوں نے کہا کہ سیرت طیبہ تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے، اور یہ امت مسلمہ کی خوش نصیبی ہے کہ وہ دنیا کی سب سے عظیم ہستی کی سیرت طیبہ کے علم کے امین ہیں، لیکن بدقسمتی سے سیرت طیبہ سے جو سبق ملتا ہے، اس سے ہمارے یہاں استفادہ حاصل کرنے میں فقدان پایا گیا ہے۔ کمشنر سکھر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش ہم اپنی نسلوں کی کردار سازی سیرت طیبہ کے عین مطابق کر سکیں، وہ سیرت کہ جس میں یتیموں کا سہارا بننے کا سبق، بچوں سے شفقت، بڑوں کا ادب، حصول علم، صلح رحمی، عدل، مساوات، بھائی چارے اور دیانت و اخوت کا سبق پنہان ہے۔ اس پر مسرت موقع پر منتظم پاکستان سوئٹ ہوم و اسسٹنٹ ڈائریکٹر بیت المال سکھر شبیر میمن، معروف عالم دین مفتی محمد ابراہیم قادری، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے پروفیسر غلام حسین منگنہار، اسسٹنٹ کمشنر سکھر سٹی ثوبیہ فلک راؤ اور ریسکیو 1122 کے کرنل غلام مصطفیٰ اوڈھو نے بھی سیرت طیبہ کی اہمیت و افادیت اور سیرت طیبہ کو روزمرہ زندگی میں اپنانے پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں پاکستان سوئٹ ہوم سکھر کے فرشتوں اور پریوں نے اپنی خوبصورت آواز میں نعت پیش کیں اور سیرت طیبہ پر مبنی اشعار سنائے، جبکہ بچوں میں سیرت پر مبنی تقریری مقابلہ بھی منعقد ہوا، حاضرین محفل نے خوبصورت محفل سجانے پر بچوں کی حوصلہ افزائی کی اور انعامات تقسیم کیے۔

راصب خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان سوئٹ ہوم سوئٹ ہوم سکھر کے کمشنر سکھر

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج