ایف بی آر نے 60 ہزار سے زاید جیولرز کا ڈیٹا اکھٹا کرلیا،ٹیکس شکنجہ کسنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250923-01-9
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جیولرز پرٹیکس کا شکنجہ کسنے کے لیے 60 ہزار سے زاید جیولرز کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا۔ ذرائع کے مطابق جن 60 ہزار جیولرز کا ڈیٹا جمع کیا گیا ان میں سے صرف 21 ہزار جیولرز ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں ان 21 ہزار رجسٹرڈ جیولرز میں سے بھی صرف 10 ہزار 524 نے ٹیکس ریٹرن داخل کی ہیں۔ ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ بیشتر جیولرز اپنی آمدنی کم ظاہر
کرکے ٹیکس چھپا رہے ہیں۔ ٹیکس چھپانے والے جیولرز کے خلاف کارروائی شروع کی جا رہی ہے جس کے لیے پہلے مرحلے میں پنجاب کے 900 جیولرز کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔فہرست میں موجود جیولرزکا تعلق لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان سے ہے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرن ان کی دکانوں، خرید و فروخت اور رہن سہن کے مطابق نہیں۔ کئی ہزار جیولرز ٹیکس نیٹ میں شامل ہی نہیں ہو رہے، ٹیکس کم دینے والے جیولرز سے نوٹسز کے ذریعے جواب طلب کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے ایف بی آر حکام نے کہا ہے کہ تمام سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ کسی تاجر اور صنعت کار کو بلاوجہ نوٹس نہیں دیں گے، ہر فرد اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے دے گا تو ملک چلے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔