WE News:
2026-07-24@04:16:05 GMT

مریم نواز بہت بدل گئی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

مریم نواز کو جاننے  کے کئی طریقے ہیں۔ آپ ان کو نواز شریف کی بیٹی کی حیثیت سے بھی جانتے ہیں۔ یہ اس خاندان کی فرد ہیں جہاں والد وزیر اعظم، چچا وزیر اعلیٰ اکثر دیکھے گئے۔ پورے ملک کی سیاسی قیادت ان کے گھر عموماً آتی رہی۔ دنیا بھر کےسربراہان مملکت کے ان کے خاندان سے رابطے رہے۔ کتنے ہی وزرا اعظم خود چل کر ان کے گھر آئے۔ کتنے غیر ملکی وفود سے بچپن میں ہی ان کی ملاقات رہی۔ کتنی ہی سیاسی تحریکوں نے ان کے گھر سے جنم لیا۔ کتنے ہی سیاسی مدوجزر انہوں نے بچپن میں دیکھ لیے ۔

مریم نواز کو جاننے کا ایک طریقہ یہ ہے آپ مریم نواز کو ان کے دادا کے حوالے سے جانیں جو پاکستان کے سب سے بڑے انڈسٹریلسٹ تھے۔ جن کے کاروبار کا شمار نہیں تھا۔ اتفاق ایسا نام تھا جس پر سب متفق تھے۔ لاہور اتفاق فیکٹری کی سرحد سے شروع ہوتا تھا۔ اس مریم نواز کا بچپن ناز و نعم میں گزرا تھا۔ یہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئیں۔ ان کی زندگی میں عسرت و غربت کی کوئی جھلک نہیں تھی۔ ان کی زندگی میں پیسے کی فروانی تھی۔ دولت کی ریل پیل تھی۔

مریم نواز کو جاننے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ انہیں ان کے بچپن سے پہچانیں۔ مریم نواز کبھی سیاست میں آنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھیں۔ ان کے والد، والدہ، چچا اور کزن نے جو مشکلات سہیں اس کے بعد ان کی کوئی دلچسپی اس مضمون میں نہیں رہ گئی تھی۔  وہ ایک عام خاتون کی طرح زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔ گھر بار، بچے سنبھالنا چاہتی تھیں۔ سیاست میں ان کی دلچسپی اپنے والد تک تھی، اور یہ انکے لیے کافی تھا ۔ والد ہی ان کی سوچ کا محور تھے

مریم نواز کو جاننے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ان کو جیل میں ملتے۔ جہاں سے مریم نواز کی زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ جیل کے دنوں میں اگر آپ کی ان سے ملاقات ہوئی ہو تو آپ جان سکتے ہیں کہ اس وقت انہیں جیل کی تکالیف پریشان نہیں کرتی تھیں۔ وہ بڑے استقلال کے ساتھ ظلم و ستم کا مقابلہ کرتی تھیں۔ عمران خان کے دور میں ان کے باتھ روم میں کیمرے لگوا دیے گئے۔ ان سے جانماز چھین لی گئی۔ ان کے کمرے میں رات کو 12 بجے کے قریب جب وہ شب خوابی کے لباس میں ہوتیں تو نیب کے 15-15 اہلکار داخل ہو کر موبائل  پر وڈیوز بنانے لگتے۔ اور سب سے زیادہ  اذیت ناک بات کہ جب مریم نواز کی والدہ بیگم کلثوم نواز بستر مرگ پر تھیں۔ ان سے بات نہیں کروائی گئی۔ آنے والے سانحے کی سب کو خبر تھی۔ اس موقع پر جیل سپرٹینڈینٹ سے کس طرح ایک بیٹی نے درخوست کی ہو گی یہ ہر بیٹی والا سمجھ سکتا ہے۔ لیکن بات نہیں کروائی گئی۔ ماں دنیا سے چلی گئی قلق دل میں رہ گیا۔ آخری مرتبہ آواز سننے کی حسرت عمر بھر کے لیے رہ گئی۔

مریم نواز کو آپ جاننا چاہیں تو انہیں اس دور کے حوالے سے جان سکتے ہیں جب عمران خان اور ان کے حواریوں نے ان پر اور ان کے خاندان پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے۔ جب  نواز شریف جیل میں تھے اور پارٹی خاموش ہو کر کسی سانحے کا انتطار کر رہی تھی۔ کوٹ لکھپت جیل کے باہر 200 لوگ بھی احتجاج کے لیے جمع نہیں ہوتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب  نواز شریف کے پلیٹلٹس کم ہونے کی خبریں ٹی وی اسکرینوں پر چل رہی تھیں۔ کوئی عمران خان کے ظلم کے خلاف کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھی اس جرم میں برابر کی شریک تھی۔  اس وقت ہم نے مریم نواز کا ایک اور روپ دیکھا۔ وہ لڑکی جو سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی، کسی شیرنی کی طرح اپنے باپ کی زندگی کے لیے ٹوئٹر پر دھاڑتی تھی۔ جو کچھ بس میں تھا اس زمانے میں مریم نواز نے کیا۔ نواز شریف کی اس وقت جان بچانے کا سہرا صرف اور صرف مریم نواز کو جاتا ہے۔ اس وقت نہ وہ نازوں میں پلی لڑکی رہیں نہ سیاست  سے منفور رہیں۔ ان کی زندگی کا مطمحِ نظر صرف نواز شریف ہو گئے تھے۔ اسے نہ گرفتاری کا ڈر تھا نہ دورِ عمران کے جبر کا خوف۔ انہوں نے اس زمانے میں تن تنہا اپنے باپ کی زندگی کی جنگ لڑی۔

مریم نواز کو جاننے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ ان کو سیاست دان کی حیثیت سے جانیں۔ مسلم لیگ ن کے پاس اب مریم نواز کے سوا کچھ زیادہ نہیں بچا۔ ہر الیکشن کمپین ان کو کرنا پڑتی ہے۔ ہر جرأت مندانہ اقدام کے لیے نگاہیں ان پر پڑتی ہیں۔ جب مریم نواز وزیر اعلیٰ بنیں تو کچھ خدشات لوگ کے ذہنوں میں تھے۔ لوگوں کو لگتا تھا ناز و نعم میں پلی یہ خاتون اپوزیشن میں تو احتجاج  کر سکتی ہے مگر صوبہ نہیں چلا سکتی۔ شروع میں  اعتراضات بڑھے ۔ لوگوں نے ان کے قیمتی ملبوسات میچنگ پرس اور جوتوں پر جملے کسے۔ جس طرح وہ عوام میں گھل مل  جانے سے اجتناب کرتی تھیں اس پر باتیں کیں۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا  کہ مریم نواز بدل گی۔

 گزشتہ چند دنوں  سے مریم نواز وہ نہیں رہیں جو وہ پہلے تھیں۔ نہ اب وہ زرق برق لباس زیب تن کرتی ہیں، نہ عوام سے دور رہتی ہیں نہ منتخب نمائندوں سے خائف رہتی ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں مریم نواز نے وہ کر دکھایا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ اب لوگ  اس مریم نواز کو جانتے ہیں جو مصیبت زدگان کی مدد کو ہر لمحہ تیار رہتی ہے۔ اب لوگ  انہیں اس مریم نواز کے حوالےسے جانتے ہیں جو مشکل میں پھنسے لوگوں کو گلے لگاتی ہے۔ اب ان کی پہچان ہے کہ وہ سیلاب زدگان کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کر کھانا کھاتی ہے۔ ننگ دھڑنگ بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہے۔  اب نہ ان کا لباس  زرق برق ہے نہ اپنی امارت کا کوئی احساس۔ سر پر معمولی سی چادر لیے، بنا کسی پروٹوکول کے عوام کی خدمت میں جتی مریم نواز اب بدل گئی ہیں۔ اب اس کو پرٹوکول کی کوئی پرواْ نہیں، اسے صرف پنجاب کے عوام کی فکر ہے۔ مریم نواز اپنی ساری ٹیم کو مصیبت زدگان کی خدمت پر مامور رکھتی ہے۔ اب وہ  پورے پنجاب میں ہر جگہ لوگوں کی خدمت کرنے کو پہنچتی ہے۔ یہ وہ مریم نواز نہیں ہے جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی۔ جس کے منہ میں سونے کا چمچہ اور تن پر زرق برق لباس تھا۔ یہ وہ مریم نواز ہے جو عوام کی خادم ہے۔ پنجاب کی محافظ ہے۔ اب اس کا ایک ایسا  نیا روپ سامنے آیا ہے جس میں وہ نواز شریف کی بیٹی تو ہے مگر بیگم کلثوم نواز کے سب وصف لے کر عوام کی خدمت کررہی ہے۔  اب وہ اپنی ذات، خاندان، عیش و عشرت سے ماورا ہو گئی ہے۔ یقین مانیے مریم نواز اب بہت بدل گئی ہے۔ مریم نواز چند دنوں میں ہی بہت بدل گئی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مریم نواز کو جاننے کا ایک طریقہ یہ نواز شریف کی زندگی عوام کی کی خدمت کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف