Al Qamar Online:
2026-07-24@04:07:40 GMT

شرجیل میمن نے جام صادق پل کی تکمیل کی حتمی تاریخ بتا دی

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT



کراچی:

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ورلڈ بینک کے تعاون سے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے پر دن رات کام کر رہی ہے، منصوبے کے ڈیپوز اور دیگر تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل میمن نے کہا کہ سینیٹر تاج حیدر مرحوم کے نام سے منسوب برج اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ یہ پل ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے عوام کے لیے کھول دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت جدید سفری سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ اسی ہفتے خواتین کے لیے خصوصی طور پر ’’پنک اسکوٹرز‘‘ تقسیم کی جائیں گی جو انہیں مفت فراہم ہوں گی تاکہ خواتین اپنی سفری ضروریات بہتر طریقے سے پوری کر سکیں۔ مزید برآں، آنے والے چند ہفتوں میں ڈبل ڈیکر بسیں اور برقی بسوں کا بڑا بیڑا بھی کراچی پہنچے گا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین کے دوران اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں سندھ میں برقی اور عام بسوں کی تیاری کے لیے مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے پر بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف عوام کو بہتر سفری سہولتیں میسر آئیں گی بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں چینی سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی ہے، جہاں نئی صنعتیں لگنے سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ صدر زرداری نے دورۂ چین کے دوران خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ صنعتیں قائم کی جائیں اور مقامی افراد کو چین میں تربیت دے کر روزگار کے قابل بنایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بڑے منصوبوں میں اکثر یوٹیلیٹیز کی منتقلی جیسے مسائل آڑے آتے ہیں، ریڈ لائن منصوبے میں بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہا تھا۔ پی ٹی سی ایل اور کے الیکٹرک کی جانب سے کروڑوں روپے کے اخراجات مانگے گئے جس سے پیش رفت متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سیکرٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ کے الیکٹرک کے ساتھ موجودہ تنازع 24 گھنٹے کے اندر حل کیا جائے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سینیٹر تاج حیدر برج کے افتتاح کے بعد جام صادق برج کو منہدم کر کے جدید طرز پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق نئے برج میں پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے علیحدہ ٹریکس بنائے جائیں گے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور آرام دہ سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

صحافی امتیاز میر پر حملے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے فوری کارروائی کی ہے، مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے زخمی صحافی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت ان کی مکمل معاونت کرے گی۔

تین ٹرانسجینڈر کے قتل کے واقعات پر بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ انفرادی نوعیت کے واقعات ہیں اور ان کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی صورت میں مجرموں کو معاف نہیں کرے گی۔

سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دورۂ چین کے دوران توانائی، زراعت اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق یہ دورہ نہایت کامیاب رہا اور مستقبل میں ان شعبوں میں بڑے منصوبے شروع ہوں گے۔

پنجاب کے ایک صحافی کی جانب سے نازیبا زبان کے استعمال پر تبصرہ کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ رویہ افسوسناک ہے، ان کے مطابق پالیسیوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن پوری ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا کسی کو بھی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اختلافات میں الجھنے کے بجائے سیلاب متاثرین کی مدد کی جائے۔

وفاقی حکومت کی گندم پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر اگر کسانوں کو سپورٹ پرائس دی جاتی تو آج پاکستان کو اربوں روپے خرچ کر کے گندم درآمد نہ کرنا پڑتی، سندھ میں اب بھی 12 لاکھ ٹن گندم موجود ہے لیکن وفاقی حکومت اپنے کسان سے مناسب قیمت پر خریدنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ زرعی ملک ہے اور کسان کو سپورٹ دینا ہی معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

پنجاب میں سیلابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بہتر منصوبہ بندی سے تباہی کے دائرے کو محدود کیا جا سکتا تھا، لیکن نا تجربہ کاری کی وجہ سے نقصانات بڑھ گئے۔ ان کے مطابق سندھ میں وزیر اعلیٰ خود مانیٹرنگ کر رہے تھے اور کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا جس کی بدولت نقصان کو کم کیا گیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان شرجیل انعام میمن نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کہا کہ حکومت ان کے مطابق کرتے ہوئے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن