پاکستان کو غربت میں کمی، کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے، ورلڈ بینک WhatsAppFacebookTwitter 0 23 September, 2025 سب نیوز

عالمی بینک نے آج جاری کی گئی اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں قومی غربت کی شرح جو 02-2001 میں 64.3 فیصد سے مسلسل کم ہو کر 19-2018 میں 21.9 فیصد تک آگئی تھی، 2020 سے دوبارہ بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات مختلف جھٹکے ہیں، جن میں کوویڈ-19، مہنگائی، سیلاب اور میکرو اکنامک دباؤ شامل ہیں ،لیکن اس کی ایک وجہ وہ کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل بھی ہے، جس نے ابتدائی کامیابیاں تو دیں لیکن اب اپنی حد کو پہنچ چکا ہے۔

ری کلیمنگ مومنٹم ٹو ورڈز پراسپیرٹی: پاکستان کی غربت، ایکوٹی اور ریسائلنس اسیسمنٹ کے نام سے جاری کردہ یہ رپورٹ سن 2000 کی دہائی کے اوائل کے بعد سے پاکستان میں غربت اور فلاحی رجحانات کا پہلا جامع تجزیہ ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے رپورٹ میں غریب اور کمزور خاندانوں کے تحفظ، روزگار کے مواقع میں بہتری اور بنیادی خدمات تک سب کی رسائی کو بڑھانے کے لیے پائیدار اور عوام مرکوز اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔

جائزے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں غربت میں کمی کی بڑی وجہ غیر زرعی محنتانہ آمدنی میں اضافہ تھا، کیوں کہ زیادہ گھرانے کھیتی باڑی چھوڑ کر کم معیار کی خدمات کی ملازمتوں کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔

سست اور غیر متوازن ڈھانچہ جاتی تبدیلی نے متنوع معیشت، روزگار کے مواقع اور شمولیتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، اس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں کم پیداواری صلاحیت نے آمدنی کے بڑھنے کو محدود کیا، اب بھی 85 فیصد سے زائد ملازمتیں غیر رسمی ہیں اور خواتین اور نوجوان بڑی حد تک لیبر فورس سے باہر ہیں۔

رپورٹ میں گزشتہ 25 برس کے سرکاری گھریلو سرویز، نئے تخمینے، جغرافیائی تجزیہ اور مختلف انتظامی ڈیٹا ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔

سرکاری غربت کے تخمینے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) کی متعدد لہروں پر مبنی ہیں، جو پاکستان کی قومی غربت لائن اور طریقہ کار کے تحت کیے گئے اور پالیسی سازی کے لیے سب سے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی موازنوں کے لیے رپورٹ میں 19-2018 کے بعد کے عرصے کے لیے جون 2025 میں اپ ڈیٹ ہونے والی عالمی غربت کی حدیں استعمال کی گئی ہیں، جو کہ دستیاب آخری سروے ہے، مائیکرو سمیولیشن ماڈلز کے ذریعے غربت کے تخمینے لگائے گئے ہیں، نئے اعداد و شمار اور رجحانات HIES 2024-25 کے اجراء کے بعد سامنے آئیں گے۔

عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان بولورما آمگابازر نے کہا کہ یہ نہایت اہم ہوگا کہ پاکستان اپنی بڑی محنت سے حاصل شدہ غربت میں کمی کے ثمرات کو محفوظ رکھے اور ان اصلاحات کو تیز کرے جو خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور مواقع بڑھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں، جگہوں اور مواقع میں سرمایہ کاری، جھٹکوں کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے، مالیاتی نظم و نسق کو ترجیح دینے اور فیصلے کرنے کے لیے بہتر ڈیٹا سسٹمز قائم کرنے پر توجہ دے کر پاکستان غربت میں کمی کے عمل کو دوبارہ پٹری پر ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ نے انسانی سرمائے کی کمی کو بھی نمایاں کیا ہے، تقریباً 40 فیصد بچے غذائی قلت کے باعث کمزور ہیں، ایک چوتھائی پرائمری اسکول کے بچے اسکول سے باہر ہیں، اور 75 فیصد بچے جو اسکول جاتے ہیں وہ پرائمری کے آخر تک ایک سادہ کہانی پڑھ کر سمجھ نہیں سکتے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی خدمات میں بھی بڑی کمی ہے، 2018 میں صرف نصف گھرانوں کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی تھی اور 31 فیصد کے پاس محفوظ صفائی ستھرائی کی سہولت موجود نہیں تھی۔

رپورٹ نے پاکستان میں فلاحی مواقع میں پیچیدہ اور دیرپا علاقائی فرق پر بھی زور دیا ہے، دیہی غربت اب بھی شہری غربت سے دوگنا سے زیادہ ہے، اور کئی اضلاع جو دہائیوں پہلے پیچھے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔

مزید یہ کہ غیر منصوبہ بند شہری آبادی نے گنجان بستیوں میں کم معیارِ زندگی کو جنم دیا ہے ۔

رپورٹ کی شریک مصنفہ اور سینئر ماہر اقتصادیات کرسٹینا ویسر نے کہا کہ غربت میں کمی کی پیش رفت ڈھانچہ جاتی کمزوریوں سے خطرے میں ہے، ایسی اصلاحات انتہائی ضروری ہیں جو خصوصاً نچلے 40 فیصد کے لیے معیاری خدمات تک رسائی بڑھائیں، گھرانوں کو جھٹکوں سے بچائیں اور بہتر روزگار پیدا کریں، تاکہ غربت کے چکر کو توڑا جا سکے اور پائیدار، شمولیتی ترقی فراہم کی جا سکے۔

ترقی کی رفتار بحال کرنے کے لیے تجاویز
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ انسانوں، جگہوں اور مواقع پر سرمایہ کاری کی جائے، تاکہ خاص طور پر پسماندہ طبقوں کے لیے انسانی سرمائے کی کمی کو پورا کیا جا سکے، صحت، تعلیم، رہائش، پانی اور صفائی جیسی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی طرز حکمرانی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

گھرانوں کی لچک میں اضافہ کیا جائے، تاکہ سماجی تحفظ کے نیٹ ورک مؤثر اور سب کو شامل کرنے والے بن سکیں۔

ترقی پسند مالیاتی اقدامات اختیار کیے جائیں، بلدیاتی مالیات کو بہتر بنایا جائے، غیر مؤثر اور فضول سبسڈیز کو ختم کیا جائے، اور سب سے غریب طبقے کے لیے ہدف پر مبنی سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے۔

بر وقت ڈیٹا سسٹمز میں سرمایہ کاری کی جائے، تاکہ فیصلوں کو رہنمائی مل سکے، وسائل کو درست ہدف تک پہنچایا جا سکے، اور نتائج کا سراغ لگایا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی عرب کے مفتی اعظم، شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ انتقال کر گئے اسحاق ڈار کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال اسلام آباد؛ ڈرائیونگ لائسنس کی مہلت میں توسیع، خلاف ورزی پر مقدمہ اور گرفتاری ہوگی فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے پر اٹلی میں ہنگامے پھوٹ پڑے، 60 اہلکار زخمی سپیکر قومی اسمبلی کا سینئر صحافی مظہر اقبال کے انتقال پر اظہار تعزیت نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان واٹس ایپ لنک پر عدالت میں پیش، وکلا نے پھر بائیکاٹ کردیا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا حماس کے لیے انعام کی مانند ہے، وائٹ ہاؤس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2026-27 کے مردوں کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے، جس کا آغاز 11 اگست 2026 سے ہوگا۔ نئے سیزن میں قومی ٹیم کی 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے لیے آغاز میں ہی دو ایک روزہ ٹورنامنٹس رکھے گئے ہیں۔

پی سی بی کے مطابق ڈومیسٹک سیزن 11 اگست 2026 سے 15 جون 2027 تک جاری رہے گا، جس میں ایک روزہ، 4 روزہ، ٹی20، انڈر 19، انڈر 17 اور انڈر 15 مقابلوں سمیت مختلف سطحوں کے ٹورنامنٹس شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انگلینڈ کے مابین 5 ون ڈے میچوں کی سیریز کا شیڈول جاری

سیزن کا آغاز ملتان میں چار ٹیموں کے نیشنل چیمپئنز کپ سے ہوگا جو 11 سے 18 اگست تک کھیلا جائے گا، جس کے بعد کراچی میں 21 اگست سے 8 ستمبر تک آٹھ ٹیموں پر مشتمل صدر کپ گریڈ ون ایک روزہ ٹورنامنٹ ہوگا۔

پی سی بی نے بتایا کہ قائداعظم ٹرافی کو 2026-27 میں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قائداعظم ٹرافی گولڈ میں آٹھ ٹیمیں شامل ہوں گی، جبکہ سلور میں 12 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ دونوں ٹورنامنٹس نومبر سے دسمبر تک جاری رہیں گے۔

PCB unveils Men's Domestic Cricket Calendar for season 2026-27 with ICC Cricket World Cup preparation in sharp focus

Details here ➡️ https://t.co/NodmLStn8E pic.twitter.com/70Xj9Hge15

— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 23, 2026

اس سیزن میں علاقائی کرکٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیالکوٹ اور پشاور ریجنز کی ایک ایک اضافی ٹیم شامل کی گئی ہے، جس کے بعد قائداعظم ٹرافی اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں علاقائی ٹیموں کی تعداد 18 سے بڑھ کر 20 ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈومیسٹک کرکٹ سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے لازمی قرار، سلیکشن کے لیے نئی پالیسیاں، محسن نقوی کے اہم اعلانات

پی سی بی کے مطابق پہلی بار انڈر 19 کھلاڑیوں کے لیے تین روزہ سرخ گیند کی چیمپئن شپ بھی منعقد کی جائے گی، جس میں تمام 16 ریجنز کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس کے علاوہ انڈر 19 ایک روزہ کپ، انڈر 15 ایک روزہ کپ اور انڈر 17 دو روزہ کپ بھی شیڈول کا حصہ ہوں گے۔

پی سی بی نے اسکول ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کو بھی وسعت دینے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اسکولوں کی تعداد 450 سے بڑھا کر 1200 اور اضلاع کی تعداد 39 سے بڑھا کر 100 کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کی بہار کا آغاز 15 اگست سے ہوگا، کیلنڈر جاری

پی سی بی کے سینئر جنرل منیجر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز اسامہ شارون نے کہا کہ نئے سیزن میں تمام 16 ریجنز کو فرسٹ کلاس کرکٹ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور قومی ٹیم کی 2027 عالمی کپ کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈومیسٹک مقابلوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پی سی بی ٹی20 انٹرنیشنل ڈومیسٹک کرکٹ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشن

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق