پنجاب حکومت کا سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف پیکج، کیا کسان خوش ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
حالیہ مون سون بارشوں اور 3 بڑے دریاؤں میں سیلاب سے صوبہ پنجاب کے 28 اضلاع شدید متاثر ہوئے، اس حالیہ تباہی سے لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ، ہزاروں گھر منہدم اور مویشیوں کو بھاری نقصان پہنچا۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تقریباً 500 ارب روپے کا ایک جامع ریلیف پیکج کا اعلان کیا، جو مکمل طور پر صوبائی وسائل سے فنڈ کیا جائے گا یعنی اس پیکج میں کسی بیرونی امداد پر انحصار نہیں کیا گیا ہے۔
ریلیف پیکجپنجاب میں سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 20,000 روپے معاوضہ دیا جائے گا تاکہ فصلوں کے نقصان کی تلافی ہو سکے، مزید برآں، کسان کارڈ اور گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت خصوصی رعایتیں دی جائیں گی، جو اگلی فصل کی کاشت میں مددگار ہوں گی۔
مکمل تباہ شدہ پکے گھروں کے مالکان کو 10 لاکھ روپے، جبکہ جزوی طور پر متاثرہ پکے گھروں اور تمام کچے گھروں کے مالکان کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ملے گا۔
ہر متاثرہ گائے یا بھینس کے لیے 5 لاکھ روپے، اور چھوٹے جانوروں جیسے بکری یا بھیڑ کے لیے فی جانور 50,000 روپے دیے جائیں گے۔
معاوضے کی ادائیگی کے لیے کمیٹی کا قیامنقصانات کا جائزہ لینے اور معاوضہ تقسیم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں اربن یونٹس، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ، لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ، اور پاک فوج کے نمائندے شامل ہیں۔
سروے ٹیمیں 28 متاثرہ اضلاع میں تعینات کی گئی ہیں، ذرائع کے مطابق پنجاب کے متعدد اضلاع کو آفت زدہ قرار دیکر ٹیکس و آبیانہ معاف ہوسکتا ہے۔
باالفاظ دیگرحافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، گجرات اور ملتان میں کسانوں کے ذمے واجب الادا ٹیکس ہے اسکو معاف کیا جاسکتا ہے ۔
حکومتی مؤقفوی نیوز سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ 20 ہزار روپے فی ایکڑ کی رقم انہیں ملےگی، جن کی زمین 12 ایکڑ تک ہے اس سے زیادہ زمین رکھنے والوں کو جو نقصان ہوا ہے اس پر بھی حکومت کچھ نہ کچھ لائحہ عمل بنائے گئی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا جو زرعی زمین ٹھیکے پر ہوتی ہے، حکومتی ریلیف کے پیسے اس ٹھیکے دارکو دیے جائیں گئے نہ کہ زمین کے مالک کو۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ کے اندر لوگوں کو ریلیف پیکج کے ذریعے ادائیگی شروع ہو جائے گی اور اس ریلیف پیکج سے پنجاب کے ترقیاقی کاموں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
کسان اس پیکج کو ناکافی قرار کیوں قرار دے رہے ہیں؟کسان یونینز اور رہنماؤں نے پیکج کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فصلوں، پودوں کی تاخیر اور پانی بھرنے سے فی ایکڑ نقصان کی لاگت 70 ہزار روپے تک لگائی گئی ہے، جبکہ 20 ہزار روپے کا معاوضہ صرف علامتی امداد ہے۔
پنجاب میں 10 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین متاثر ہوئی، جس سے 60 فیصد چاول، 30 فیصد گنا، 35 فیصد کپاس اور 35 فیصد گیہوں کا اسٹاک تباہ ہوا، جو غذائی تحفظ اور مہنگائی پر اثر انداز ہوگا۔
دوسری جانب کسان یونینز کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ زرعی ٹیکس اور پانی کے ٹیکس پرایک سال کی مکمل چھوٹ دے، اگلے سال کی کاشت پر جو حکومت قرض ہے اسے معاف کیا جائے اور گندم کی سپورٹ پرائس کا اعلان کیا جائے۔
کسان اتحاد کا مؤقفکسان اتحاد کے چیئرمین چوہدری حسیب انور نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت کچھ ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے مگر کسانوں کا نقصان بیس ہزار روپے فی ایکٹر سے زیادہ ہوا ہے، کسان کی زمین کے ساتھ اسکے ٹیوب ویل سمیت دیگر زرعی آلات کا بھی نقصان ہوا ہے۔
’اس کے جانور سیلابی پانی کی نذر ہوگئے، آنے والے دنوں میں گندم کا بحران بھی شروع ہو جائے گا، اکتوبر میں کسان نے گندم کی فصل کاشت کرنی ہے ،حکومت کو چاہیے ایک تو گندم کی سپورٹ پرائس کا اعلان کرے، دوسرا اداویات اور کھاد پر ریلیف دے کیونکہ کسان کے پاس اب کچھ بھی نہیں ہے۔‘
اشک شوئی ممکن ہےچوہدری حسیب انور کے مطابق بیشتر سیلاب زدہ علاقوں میں 4 فٹ تک ریت آگئی ہے، ریلیف کی مد میں حکومت کے فراہم کردہ 20 ہزار روپے فی ایکڑ سے زیادہ وہاں کسانوں کی زمین سے ریت اٹھوانے میں لگ جائیں گے۔
’2010 میں جب سیلاب آیا اس وقت کی حکومت نے ریلیف دینے کا اعلان تو کیا مگر وہ ریلیف کسانوں کو نہیں پہنچا، افسران کی ملی بھگت سے وہ ریلیف کرپشن کی نذرہوگیا، حکومت اگر شفاف طریقے سے یہ ریلیف کسانوں تک پہنچا دیتی ہے تو کسانوں کو تھوڑا بہت ریلیف ضرور ملے گا۔‘
کسانوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس درست تجویز پرعمل کرنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب ٹیکس حافظ آباد ریلیف پیکج زرعی زمین سیالکوٹ عظمیٰ بخاری کسان گجرات گوجرانوالہ مریم نواز ملتان نارووال وزیر اطلاعات وزیر اعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیکس حافظ آباد ریلیف پیکج سیالکوٹ گجرات گوجرانوالہ مریم نواز ملتان نارووال وزیر اطلاعات وزیر اعلی ریلیف پیکج ہزار روپے کا اعلان فی ایکڑ کے لیے
پڑھیں:
مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔
پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔
پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔
پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔
مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔
ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ