سیلاب زدگان کی مدد وزیراعلیٰ ریلیف کارڈ سے ہوگی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نہیں، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
لاہور:
وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وزیر اعلی کا ریلیف کارڈ بنے گا تاکہ کسی کو لائن پر نہ لگنا پڑے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون کے تحت بنا تھا ہر چیز پر سیاست اچھی نہیں ہوتی۔
ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ وزیراعلی پنجاب اور ان کی ٹیم ہر وقت سیلاب میں عوام کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں، پہلے آپ نے کبھی ایسا نہیں دیکھا ہوگا، پنجاب کا کوئی ایسا علاقہ ہوگا جہاں سیلاب آیا اور وزیراعلیٰ پنجاب نہ گئی ہوں، وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم نے مزدوروں کی طرح سیلاب میں کام کیا، ہمارے پی ڈی ایم اے افسر عبدالرحمان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وفات پاگئے، پتوکی کے اے سی فرحان احمد بھی وفات پاچکے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب خود جاکر لوگوں سے بات کرتی ہیں، میں نے نہیں دیکھا کوئی وزیر اعلی اتنا جذباتی ہو، لوگوں کے غم زمین پر بیٹھ کر سنتا ہو ایک نیا طرز حکمرانی آپ پنجاب میں دیکھ رہے ہیں مگر ہمارے ناقدین کو سوائے گندگی کرنے کے کچھ نہیں ہے۔
عظمی بخاری نے کہا کہ پنجاب کے 7 ہزار 794 موضع جات متاثر ہوئے 26 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 21 لاکھ مویشی متاثر ہوئے، سیلاب 25 اور 26 اگست کے قریب آیا تھا اور اب بھی سیلاب جاری ہے ابتدائی سروے کرلیے گئے ہیں، 59 انسٹھ لاکھ افراد ان سائیڈ فلڈ سے متاثر ہوئے، 16 لاکھ افراد آؤٹ سائیڈ فلڈ سے متاثر ہوئے، تین دریاؤں نے پنجاب کے مختلف ڈسٹرکس کو ہٹ کیا، 27 کے قریب شہر متاثر ہوئے، 2ہزار 213 ٹیمیں فیلڈ میں کام کررہی ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کاشت کاروں کا نقصان ہوا ہے، بیس ہزار پَر ایکڑ کسان کو دیا جائے گا، جس کا پورا گھر گرا اس کو 10 لاکھ اور جس کے گھر کو نقصان ہوا 5 لاکھ جب کہ گائے اور بھینس کے نقصان پر 5 لاکھ روپے دیئے جائے گے، یہ سب پنجاب حکومت کے اپنے پیسے ہیں کسی سے مدد نہیں مانگی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے پنجاب میں کہیں کوئی ترقیاتی کام نہیں رُک رہا، اپنی چھت اپنا گھر میں 80 ہزار گھر زیر تعمیر ہیں، دسمبر تک اس کی تعداد ایک لاکھ تک جائے گی، دوسری طرف سیلابی سیاست بھی کی جارہی ہے، سیلاب کے سارے مرحلے میں وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے ہمارے ساتھ رہا، اگر وفاق معاونت کرنا چاہے تو ان کی مہربانی ہوگی۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بلاول بھٹو نے وزیر اعلی پنجاب کی تعریف کی، چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کے آپریشن کو اپنی طرف سے دیکھا، بہت ساری باتیں ہماری طرف سے بھی آسکتی ہیں کہ پچھلی مرتبہ سیلاب آیا تھا تو آپ نے تیاری کیوں نہیں کی؟
انہوں ںے کہا کہ وزیر اعلی کا ریلیف کارڈ بنے گا تاکہ کسی کو لائن پر نہ لگنا پڑے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون کے تحت بنا تھا ہر چیز پر سیاست اچھی نہیں ہوتی، یہ بسیں پنجاب کے عوام کی خدمت کے لئے آئی ہیں، میری ٹیم نکالے کہ اڈیالہ جیل کے قیدی نے جو اپیل کی ہے ایک سو بتیس مرتبہ یہ اپیل کرچکے ہیں، کہتے ہیں میں تنہا رہتا ہے جو بھی جیل میں رہتا ہے تنہا ہی رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اپنے پانی کو بچانے کے لئے اگر ڈیم بنانے پڑتے ہیں تو ضرور بنانے چاہئیں، اسموگ کے لئے آن اینڈ آف کا بٹن نہیں ہوتا، ہماری ماحولیات کی ٹیم ایس او پیز پر عمل کروارہی ہیں، بھارتی پنجاب میں فصلیں جلائی جارہی ہیں، وہاں پر انڈیکس خراب ہوتا ہے تو ہمارا بھی انڈیکس خراب ہوتا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سارے پاکستان کو ان سے عقل لینے کی ضرورت ہے جنھوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا ہے، یہ کہتے ہیں بارش کم ہوتی تو باہر نکلے گے ہم بارش کم ہونے کا انتظار نہیں کرتے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان متاثر ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ پنجاب کے
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔